تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 486
486 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے بالکل خلاف نہیں ہے۔“ دوبارہ اس معاملہ کو ۱۹۵۷ء میں مجلس مشاورت کے فیصلہ کے لئے پیش کیا گیا۔مجلس کار پرداز کی رائے یہ تھی کہ جائیداد پر وصیت کرنے والی عورت کے لئے معیار وصیت یہ ہو کہ وصیت اس کی جائیداد اور اس کی بود و باش اور حیثیت کے مطابق ہو۔سب کمیٹی نے یہ سفارش کی کہ ضروری ہے کہ وصیت کرنے والی عورتوں کے لئے جائداد کا تعین کیا جائے۔وہ عورتیں جن کی کوئی ماہوار آمد ہو وہ اپنی اس ماہوار آمد کی وصیت کریں گی خواہ وہ آمد تنخواہ کی صورت میں ہو یا الاؤنس کی صورت میں یا گزارہ کے لئے وظیفہ یا جیب خرچ ملتا ہو۔لیکن وہ عورتیں جو اس قسم کی آمد نہیں رکھتیں ان کے لئے کم از کم جائیداد جس پر وصیت ہو سکے وہ ہمارے نزدیک پانچ سوروپے کی مالیت ہونی چاہیئے۔اس میں ان کا زیور اور ان کا مہر اور نقد روپیہ بھی شامل ہوگا۔اس قسم کی جائیدا در رکھنے والی موصیبہ پر لازم ہوگا کہ وہ اس جائیداد کا حصہ وصیت یکمشت یا بالاقساط جلد تر ادا کر دے۔ان کے علاوہ جو عورتیں اس سے کم مالیت رکھتی ہوں وہ ایسی صاحب جائیداد نہیں سمجھی جائیں گی جو قابل وصیت ہو ان کے لئے بہشتی مقبرہ میں داخل ہونے کی صورت وہی ہوگی جو رسالہ الوصیت کی شرط نمبر ۴ میں درج ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک صالح جس کی جائداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کرسکتا، اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھاوہ اس قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے۔“ لجنہ اماءاللہ نے اپنے نمائندہ کے ذریعہ یہ رائے پیش کی کہ عورتوں کے لئے جائداد کی تعین نہیں ہونی چاہیئے۔جب مردوں کی وصیت کے لئے کوئی معیار نہیں تو عورتوں کے لئے بھی کوئی معیار نہیں ہونا چاہیئے۔اگر عورتوں کے لئے جائداد کا کوئی معیار مقرر کر دیا گیا تو چونکہ بہت کم عورتوں کی اپنی جائیداد ہوتی ہے اس لئے موصیہ عورتوں کی تعداد بہت کم ہو جائے گی۔فرمایا: حضور رضی اللہ عنہ کا ارشاد:۔نمائندگان شوریٰ کی تقاریر سنے اور ان کی رائے معلوم کرنے کے بعد حضور رضی اللہ عنہ نے