تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 478 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 478

گوجرخان راولپنڈی ا مونگ 478 سیالکوٹ تهال صل الله آپ نے فرمایا کہ نمائندگان مرکز میں بھجوانے کا دستور کوئی نیا دستور نہیں۔یہ دستور آنحضرت کے وقت میں بھی جاری تھا۔اس وقت بھی جماعتیں اپنے نمائندے بھجوا تیں جو مرکز اسلام میں آکر اسلامی فیوض سے خود بھی مستفیض ہوتے اور واپس جا کر اپنی جماعتوں کو بھی اس فیض سے بہرہ ور کرتے۔ہماری جماعت کی عورتیں جب علم کے میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دین کے میدان میں مردوں سے پیچھے رہ جائیں جبکہ خدا تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں نبی پر ایمان لانے اور اس کی کامل اطاعت اختیار کرنے کے لحاظ سے مرد اور عورت کو یکساں ذمہ دار قرار دیا ہے۔جب ہم تاریخ اسلام پر غور کرتے ہیں تو ہمیں آنحضرت معﷺ پر ایمان لانے والی سب سے پہلے ایک عورت ہی نظر آتی ہے یعنی حضرت خدیجہ الکبری جو سب سے پہلے آنحضرت علی ایمان لائیں اور نہ صرف ایمان ہی لائیں بلکہ اشاعت اسلام میں بھی پورا پورا تعاون فرمایا۔پھر ہندہ جیسی دشمن اسلام عورت جب اسلام لے آئی تو مختلف اوقات میں اس نے ایسی ایسی قربانیاں کیں کہ آج بھی ان کو پڑھ کر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی قرون اولیٰ کی صحابیات کی طرح اپنے اندر دین کی خدمت کی نئی روح اور جوش پیدا کریں اور خلافتِ احمدیہ سے وابستگی کا پورا پورا ثبوت دیں بلکہ اپنی نسلوں میں بھی اس وابستگی کو زیادہ پختگی سے جاری کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لائے ہوئے روحانی اور علمی خزانوں کو لوگوں میں تقسیم کریں اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں۔لفظ اسلام کے معنی کامل فرمانبرداری کے ہیں۔اس کی عملی تصدیق کے لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اشاعت اسلام کیلئے ہرممکن کوشش کریں اور اہم اپنے آپ کو اپنے عمل سے احمدیت کا ستون ثابت کریں۔اسلام کے صرف پانچ ارکان پر عمل کر لینا انسان کو کامل مومن نہیں بنا سکتا جب تک ہم خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق کو پورا پورا ادا نہ کریں اور سچائی ، صفائی، ہمدردی اور خدمت خلق جیسے اخلاق کا بھی مظاہرہ نہ کریں۔آخر میں آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ آپ ان باتوں پر خود بھی عمل پیرا ہوں گی اور اپنی دوسری بہنوں کو بھی عمل پیرا کرنے کی کوشش کریں گی۔