تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 472
472 پیش کیا جس کا محترمہ بیگم ڈاکٹر محمد رشیدی صاحب انڈونیشن زبان میں جواب دیا۔آخر میں ان کو انگریزی ترجمہ قرآن مجید اور رسالہ مصباح کی ایک کاپی پیش کی گئی۔لندن میں لجنہ اماءاللہ کا احیاء: محترمہ کلثوم باجوہ صاحبہ کے لنڈن سے پاکستان آجانے کے بعد لجنہ اماءاللہ لندن کا کام بند ہو گیا تھا۔مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے اس سال کے دورہ انگلستان کے موقع پر لجنہ اماءاللہ کا از سرنو قیام عمل میں لایا گیا۔اور احمدی خواتین مقیم لندن کی پہلی میٹنگ ۳۱ را گست ۱۹۵۷ ء کو منعقد ہوئی۔لجنہ اور ناصرات کا دوسرا اجلاس ۱۵ ستمبر کو ہوا جس کی صدارت صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ بیگم صاحبزادہ مرز امظفر احمد صاحب نے کی جو ان دنوں لندن میں تھیں۔آپ نے عہدیداران کو قیمتی نصائح فرمائیں۔اس اجلاس میں بیرون لندن سے بھی بعض بہنیں تشریف لائیں۔اجلاس نے متفقہ طور پر مکرمه سارہ خانم صاحبہ (اہلیہ ڈاکٹرمحمد نسیم صاحب ) لندن کوصدر اور رشیدہ بیگم صاحبہ بنت حامد خاں صاحب کو سکرٹری منتخب کیا۔۲ ۱۵ دسمبر ۱۹۵۷ء کولجنہ اماءاللہ کی میٹنگ میں صدر صاحبہ لجنہ بیگم ڈاکٹر نسیم احمد صاحب نے سال نو کا پروگرام مرتب کیا۔سے مسر نسیم کے ساتھ مسز اشرف صاحبہ نے تین سال لجنہ اماءاللہ کا کام بڑے شوق اور محنت سے کیا۔صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ کی شادی:۔مورخہ ۲۱ نومبر کو حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ مد ظلہا العالی کی صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ کی شادی خانہ آبادی ہمراہ جناب میر محمود احمد صاحب ناصر بڑی سادگی سے عمل میں آئی ہے مصباح اکتوبر ۱۹۵۷ء صفحه ۳۴ الفضل ۱۶۔جولائی ۱۹۵۸ء صفحہ ۳ کالم نمبر الفضل ۳۔اکتوبر ۱۹۵۷ء صفحه ۳ مصباح دسمبر ۱۹۵۷ء صفحه ۶