تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 462
462 ۱۹۷۰ ء تک یہ سکول پرائمری رہا۔جماعت پنجم تک لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔جماعت پنجم کے لڑکے امتحان دے کر ہائی سکول میں داخلہ لے لیتے ہیں۔چھٹی جماعت پہلی مرتبہ ۱۹۶۱ء میں کھولی گئی۔۱۹۶۴ء میں پہلی دفعہ پانچ طالبات مڈل کے امتحان میں شامل ہوئیں۔سوائے ۱۹۶۵ء کے جب مڈل کا نتیجہ ۵۶٪ تھا ہر سال نتیجہ ۱۰۰ ب رہا ہے اور ہر سال ایک یا دو طالبات وظیفہ حاصل کرتی رہی ہیں۔۱۹۶۹ء میں ایک طالبہ ضلع جھنگ میں اول رہی۔۱۹۷۰ء سے ہائی کلاسز جاری کر دی گئی ہیں اور ۱۹۷۲ء میں پہلی دفعہ اس سکول کی طالبات میٹرک کے امتحان میں شامل ہوں گی۔انشاء اللہ العزیز سکول میں جسمانی تربیت کا بھی انتظام ہے۔ایک لمبے عرصہ تک صفیہ رانجھا صاحبہ اس کی ذمہ دار رہیں اب اس سال ۱۹۷۱ء میں صادقہ بیگم صاحبہ بنت چوہدری ہدایت اللہ صاحب کو فزیکل انسٹرکٹر کے طور پر رکھا گیا ہے۔سکول میں ۱۲ استانیاں کام کر رہی ہیں۔ناصرات الاحمدیہ قائم ہے۔سکول کے لئے آمد پیدا کرنے کی غرض سے ہر سال ایک صنعتی نمائش کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔تقسیم انعامات کا جلسہ منعقد ہوتا ہے۔سالانہ کھیلوں کا مقابلہ کروایا جاتا ہے۔یوم امہات منایا جاتا ہے۔۱۹۶۵ء میں اس سکول کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کی تشریف آوری کی سعادت حاصل ہوئی۔دورویہ کھڑے ہوئے طلباء نے حضور پر نور کی خدمت میں اھلا و سھلا و مرحبا کہا۔آپ نے تجھے منے بچوں کو شرف مصافحہ بخشا اور قیمتی نصائح فرمائیں۔۱۹۶۷ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کی سفر یورپ سے کامیاب مراجعت پر اس مدرسہ کے بچوں نے بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو دعوت دی جو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت منظور فرمائی۔حضور کی خدمت میں بچوں کی طرف سے سپاسنامہ پیش کیا گیا۔حضور نے بچوں کو نصائح فرمائیں اور ان کے درمیان ایک خوشگوار ماحول میں چائے نوش فرمائی۔ہر کلاس کے نمائندہ بچے حضور کے ساتھ بیٹھے۔مندرجہ ذیل خواتین نے ایک لمبے عرصہ تک سکول کی خدمات سرانجام دیں اور اب اپنے حالات کی وجہ سے سکول سے فارغ ہو چکی ہیں۔فجز اصن اللہ احسن الجزاء ا۔صالحہ طلعت صاحبہ بنت مرزا برکت علی صاحب