تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 440
440 دی وہ حرف بحرف پوری ہوئی اور شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔سو ہمارے ایمان ہر روز تازہ ہونے چاہئیں۔یہ کوئی بعید امر نہیں ہے کہ ہم دنیا کے کونہ کونہ میں احمدیت کا جھنڈا اپنے ہاتھوں سے لہرائیں۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے اگر تربیت اولاد صیح رنگ میں ہو اور طارق اور خالد جیسے نوجوان اس کا نتیجہ ہوں۔حضرت خلیق امیر رضی اللہ عنہ کی تقریر کے علاوہ مردانہ جلسگاہ سے مندرجہ ذیل تقریریں سنی گئیں۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی تقریر ذکر حبیب، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی تقریر ہستی باری تعالی ، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر۔زنانہ جلسہ گاہ میں مندرجہ ذیل خواتین نے تقاریر کیں۔محترمه امینه فرحت، صاحبه، محترمہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر بشیر احمد صاحب،حضرت سیدہ مہر آیا صاحبہ محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ محترمہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ۔ناصرات کی لڑکیوں سے بھی تقریریں کروائی گئیں تا کہ باہر سے آنے والی بہنوں کو معلوم ہو سکے کہ تقریروں کی مشق کروانے سے چھوٹی چھوٹی بچیاں کتنی اچھی تقریر کر سکتی ہیں۔چنانچہ مندرجہ ذیل بچیوں نے تقاریر کیں۔محترمه حلیمہ صاحبہ محترمه ارجمند با نو صاحبہ، صاحبزادی امتہ القدوس صاحبہ محترمہ حمامۃ البشریٰ صاحبہ محترمہ امۃ الرشید صاحبه، محترمہ نسیم صاحبہ۔تینوں دن حضور کی تقاریر مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔دوسرے دن صدارت کے فرائض حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی نے سرانجام دیئے۔زنانہ جلسہ گاہ میں خواتین کی تعداد ۸۰۰۰ سے ۴۰۰۰ اتک شمار کی گئی۔۲۶ / دسمبر کی افتتاحی تقریر میں مردانہ جلسہ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے احمدی مستورات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔وو میں اپنی اس مختصر سی تقریر کے ختم کرنے سے پہلے عورتوں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رات کو مصباح فروری ۱۹۵۷ء صفحه ۳۳ تا ۳۵