تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 439 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 439

439 تھا۔وہ ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں لگے رہتے تھے جو ان کو خدا تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ رسول کا مقرب بنا سکے۔مسیح موعوڈ سے بھی ایسی قوم کا وعدہ ہے کیونکہ وہ ان کے ظل ہیں۔اور یہ وعدہ تبھی پورا ہوسکتا ہے جبکہ عورتوں میں اپنے فرائض کو سمجھنے کا مردوں جیسا ہی احساس ہو اور ویسا ہی قربانی کا جذ بہ اور ویساہی دین کی خدمت کا جذبہ ہو۔اسلام کے آغاز میں صحابہ وصحابیات پر کوئی ظلم نہ تھا جو روانہ رکھا جاتا ہو۔لیکن تمام مصائب کے باوجود چند سال کے اندراندر وہ تمام عرب پر ہی نہیں بلکہ تمام یورپ پر بھی چھا گئے۔غیر مہذب عرب قوم کی ایسی ترقی ایک مہذب انگریز مورخ کو دنگ کر دیتی ہے۔وجہ یہ تھی کہ مردوں اور عورتوں میں مساوی جوش تھا۔جذ بہ قربانی و خدمت دین تھا۔جب مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم ﷺ کے ظل ہیں تو ان کی قوم کو بھی رسول کریم ﷺ کی قوم کا رنگ اپنانا ہو گا۔آج بھی اسلام ہم سے قربانی چاہتا ہے اور قربانی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں پاسکتی۔جیسی عورتوں نے جنگ یرموک میں دلیری دکھائی اور جیسی ہندہ نے دلیری دکھائی ویسی ہی دلیری اور زندہ دلی کی اب ضرورت ہے۔اگر وہی روح آج ہم میں پیدا ہو جائے تو عظیم الشان ترقی کا وعدہ ہم اپنی زندگی میں پورا ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے لقاء کے لئے فنا ہونا ضروری ہے۔یعنی یہ کہ قومی لحاظ سے خدا تعالیٰ کا جلوہ اس وقت تک نظر نہیں آسکتا۔جب تک کہ وہ اپنے او پر موت کی حالت نہ وارد کرے۔فتح اسلام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی خیال کا اظہار کیا ہے لیکن موت سے مراد جسمانی موت نہیں بلکہ جذبات و دنیاوی خواہشات کی موت ہے۔عورت اپنی تربیت سے اپنی اولادکو چاہے تو طارق و خالد بنا سکتی ہے اور چاہے تو ابو جہل بنا سکتی ہے۔اگر ہم نے اسلام کو دنیا میں پھیلانا ہے تو ہمیں اپنے اوپر موت وارد کرنی ہوگی۔احمدیت کی خاطر ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہنا ہوگا۔تیسری چیز جو ترقی کے لئے واجب ہے وہ جماعت کا ایک مرکز میں جمع رہنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمیں یہ موقع حاصل ہے۔دشمن نے اس نظام کے شیرازہ کو بکھیر نے کا ہزار زور لگایا ہے لیکن خدا کا گایا ہوا پودا بڑھتا چلا گیا ہے۔جماعت پر تین نازک وقت آئے۔(۱) جبکہ مخالفین جماعت کی باگ دوڑ کو ایک بچہ کے ہاتھ میں دیکھ کر جدا ہو گئے (۲) ہجرت (۳) موجودہ فتنہ منافقین۔لیکن ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو موعود بیٹے کی پیشگوئی