تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 426 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 426

426 لمصل اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت نے بالا تفاق خلافت منہاج نبوت قائم کرنے کے لئے حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کو خلیفہ وقت منتخب کیا۔آپ نے خلافت کی برکات اور اس کی وابستگی پر زور دیتے ہوئے فرمایا۔جب تک قوم میں خلافت کا احترام اور اس سے محبت موجود رہتی ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ بھی اس قوم پر اپنی نعمت اور فضل کی بارش برساتا رہتا ہے اور جب کوئی قوم اس نعمت کی ناقدری کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس قوم سے منہ موڑ لیتا ہے۔مسلمانوں نے خلافت کی قدر نہ کی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک مسلمان اس کی پاداش میں مختلف آلام کا شکار ہیں۔حضرت مولانا نورالدین خلیفتہ امسح الاول رضی اللہ عنہ کی وفات پر جماعت کی اکثریت نے حضرت سیدنا اصلح الموعودؓ کو اپنا دوسرا خلیفہ منتخب کر لیا۔اس موقع پر کئی متکبر اور سرکش لوگوں نے خلافت کا انکار کیا۔لیکن واقعات نے بعد میں یہ ثابت کر دیا کہ وہ غلطی خوردہ تھے۔حضرت المصلح الموعود کی قیادت میں جماعت نے بے نظیر ترقی کی ، خصوصاً حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جو عورتوں کے حقوق محفوظ کرنے کے لئے جدو جہد کی وہ آپ کے سامنے ہے۔آپ نے عورتوں کی باقاعدہ تنظیم کے لئے لجنہ اماءاللہ قائم کی۔سکول جاری کئے۔لڑکیوں کا کالج جاری کیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کئی سال متواتر جلسہ سالانہ کے موقع پر عورتوں میں بنفس نفیس تقریر فرماتے رہے جس کی وجہ سے احمدی عورتوں میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی حتی کہ حضور نے لجنہ اماءاللہ کو مجلس مشاورت میں بھی حق نمائندگی عطا فر مایا۔اس اجتماع میں لجنہ اماءاللہ بھی اپنی شوری منعقد کرتی ہے۔چنانچہ اس سال اجتماع کے موقع پر لجنہ اماءاللہ کی گیارھویں شوری منعقد ہو گی۔ہم جتنا بھی اپنے خلیفہ کا شکر یہ ادا کریں اتنا ہی کم ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ان دنوں بعض فتنہ پرداز عناصر اور منافقین جن کا رواں رواں حضور کے احسانات سے بندھا ہوا ہے، نے خلافت کے خلاف شرارت کھڑی کر رکھی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ مختلف قسم کے الزامات لگا کر خلافت کو مٹا دیا جائے۔حالانکہ یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں اور آج سے بیشتر یہ اس امر کے اقراری رہے ہیں کہ حضور نہ صرف خلیفہ وقت ہیں بلکہ پسر موعود