تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 402
402 دوران سال بعض بزرگان سلسلہ کی وفات محترم حکیم فضل الرحمان صاحب سابق مبلغ نائیجیریا کی وفات :۔مترم حکیم فضل الرحمان صاحب ۲۸ / اگست کی دوپہر کولا ہور میں لمبی علالت کے بعد وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ تبلیغ کے میدان میں ایک نہایت بہادر اور کامیاب مجاہد اور سلسلہ احمدیہ کے مخلص اور نڈر مبلغین میں سے تھے۔۲۳ برس کے طویل عرصہ تک آپ کو مغربی افریقہ میں کامیابی کے ساتھ اعلائے کلمہ اسلام بجالانے کی توفیق ملی۔اے آپ کی وفات کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی یورپ کے سفر پر تھے۔واپسی پر حضور نے ایک خطبہ جمعہ میں بعض وفات یافتہ سلسلہ کے خادموں کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے متعلق فرمایا:۔حکیم فضل الرحمان صاحب جو حال ہی میں میرے پیچھے فوت ہوئے ہیں وہ شادی کے تھوڑا عرصہ کے بعد ہی مغربی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے چلے گئے اور تیرہ چودہ سال تک باہر رہے جب وہ واپس آئے تو ان کی بیوی کے بال سفید ہو چکے تھے اور ان کے بچے جوان ہو چکے تھے۔حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب کی وفات:۔مورخه ۳ ستمبر ۱۹۵۵ء کو سلسلہ احمدیہ کے ایک اور ممتاز بزرگ جنہوں نے ربع صدی سے زائد عرصہ تک سلسلہ احمدیہ کی انتھک خدمت کی یعنی حضرت مولوی عبد المغنی صاحب سابق ناظر بیت المال وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون ہے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ان ہر دو بزرگوں کی وفات پر ایک تعزیتی قرارداد پاس کی جو مصباح بابت ماہ اکتوبر ۱۹۵۵ء میں شائع ہوئی۔محترم مولوی نذیر احمد علی صاحب کی وفات محترم نذیر احمد علی صاحب مبلغ اسلام سیرالیون نے مورخہ ۱۹ رمئی ۱۹۵۵ء کو سیرالیون کے مقام بو ا الفضل ۳۰ را گست ۱۹۵۵ء صفحه ا ے ڈھائی سال بعد الفضل ۱/۲۲ اکتوبر ۱۹۵۵ء، ماہنامہ خالد دوره مغربی افریقہ نمبر ۴ الفضل ۶ ستمبر ۱۹۵۵ء صفحه