تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 363 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 363

363 صاحب (۱۷) محترمہ عصمت بی بی صاحبہ والدہ مختار ہاشمی صاحب (۱۸) محترمہ صوباں صاحبہ اہلیہ مستری قطب الدین صاحب (۱۹) محترمہ بیگم بی بی صاحبہ مرحومہ والدہ عزیز احمد صاحب قلعی گر (۲۰) محترمہ سکینہ صاحبہ اہلیہ حکیم احمد دین صاحب مرحوم شاہدرہ والے۔لے یہ کپاس بڑی احتیاط کے ساتھ بیل کر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کو واپس کر دی گئی۔تعلیم بالغان کی تحریک :۔دو یکم جنوری ۱۹۵۴ء کو حضور نے اپنے خطبہ جمعہ میں پھر تحریک فرمائی کہ ہر تعلیم یافتہ احمدی مرد اور عورت کسی ایک ناخواندہ مرد یا عورت کو لکھنا پڑھنا سکھانے کی کوشش کرے۔حضور نے فرمایا:۔جو باتیں میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے مردوں اور عورتوں کے سامنے رکھی ہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرد اور ہر تعلیم یافتہ عورت جماعت کے کسی ایک مرد یا عورت کو جولکھنا پڑھنا نہیں جانتے معمولی پڑھنا لکھنا سکھا دے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ ہے۔اگر ہم عزم کر لیں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں تو اگلے سال ہماری پچاس فیصدی تعداد تعلیم یافتہ ہو جائے گی۔پھر اگر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ گور بوہ میں عورتیں تعلیم کے لحاظ سے مردوں سے بہت زیادہ آگے ہیں لیکن باہر کی جماعتوں میں عورتوں کی تعلیم کا معیار یہ نہیں۔اگر ہم عورتوں کے لحاظ سے وہی معیار لے لیں جو دوسرے مسلمانوں میں مردوں کا ہے تب بھی جماعت کی ساڑھے تیرہ فیصدی عورتیں تعلیم یافتہ ہیں۔اگر جماعت کی ہر لکھی پڑھی عورت کم سے کم ایک اور عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اگلے سال تعلیم یافتہ عورتوں کی تعداد ۲۵ فیصدی ہو جائے گی۔اس طرح اگلے دو سال کی جد و جہد میں ہم سب کو تعلیم یافتہ بنادیں گے۔۔۔پس یہ کوئی مشکل امر نہیں۔اگر کوئی دقت ہے تو محض یہ کہ ہم اس کے لئے ارادہ اور عزم نہیں کرتے۔پس ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرد اور ہر تعلیم یافتہ عورت کم سے کم کسی ایک مرد یا عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھادے اور زیادہ ہو جائے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے۔لے رجسٹر کا روائی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ المصلح ۲ فروری ۱۹۵۴ صفحهیه