تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 357
357 مخلص احمدی خاتون کی وفات :۔۳۱ جولائی ۱۹۵۳ء کو لجنہ کی ایک مخلص اور انتھک کارکن محترمہ امۃ العزیز صاحبہ اہلیہ راجه عبدالرؤف صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ راولپنڈی فوت ہو گئیں۔مرحومہ ایک باعمل اور صالحہ خاتون تھیں۔غریبوں ، یتیموں اور بیواؤں کی بہت ہمدرد تھیں۔طبیعت میں بے حد جرات اور دلیری تھی۔تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھیں۔۱۹۴۷ء جب مہاجرین بے سروسامانی کی حالت میں آنے شروع ہوئے تو اپنی خدمات مسلم لیگ کو پیش کر دیں اور پھر صحت کی پروانہ کرتے ہوئے بے حد کام کیا۔لجنہ کی تنظیم میں بھی بہت محنت سے کام کیا لے ہجرت سے پہلے محلہ دارالفضل قادیان میں بھی لجنہ کا کام کرتی رہی تھیں۔آپ کی وفات پر لجنہ اما ء اللہ راولپنڈی نے تعزیتی جلسہ منعقد کیا۔اہلیہ صاحبہ مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہوتا لوی کی وفات:۔مورخه ۲۹ / دسمبر ۱۹۵۳ء کو ایک اور نہایت مخلص اور بزرگ خاتون محتر مہ امۃ العزیز صاحبہ اہلیہ حضرت مولوی محمدعبداللہ صاحب بوتا لوی ربوہ میں ے ستر سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔نالہ وانا الیہ راجعون۔حضرت خلیفۃ امسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔موصیبہ ہونے کی وجہ سے بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں تدفین عمل میں آئی۔مرحومہ محترم مولوی عبدالرحمن صاحب انور اور حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ ہالینڈ کی والدہ اور محترم قاضی محمد رشید صاحب مرحوم و سابق وکیل المال تحریک جدید اور محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی خوشدامن تھیں۔سلسلہ کا خاص در درکھتی تھیں اور لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔عرصہ تک مستورات سے چندہ کی فراہمی کا کام بڑی تندہی اور جانفشانی سے سرانجام دیتی رہیں۔خدمت خلق اور مہمان نوازی کے وصف خاص طور پر نمایاں تھے۔دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کا غم کم کرنے میں پیش پیش رہتی تھیں۔۱۹۰۳ء میں بیعت سے مشرف ہوئیں اور اس طرح صحابیہ ہونے کا بھی شرف حاصل کیا ہے له مصباح ستمبر ۱۹۵۳ء صفحه ۳۲ و جنوری ۱۹۵۴ء صفحه ۲۸ ع المصلح کراچی ۷ جنوری ۱۹۵۴ صفحہ ۲۸