تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 352
352 ۱۹۵۳ء کو مجلس عاملہ لجنہ مرکزیہ نے ریزولیوشن پاس کیا کہ ا۔خوشنما بر فقھے نہ پہنے جائیں۔۲۔آستینیں ضرور لگائی جائیں ۳۔اونچی تکون کا نقاب نہ ہو۔اسی طرح بے حد تنگ برقعہ پہننے سے منع کیا جائے۔۵۔تیرہ چودہ سال کی بعض لڑکیاں بغیر پردے کے نظر آتی ہیں۔لڑکیوں کے والدین کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو چادر یا برقعہ پہنا کر باہر بھیجا کریں۔۔یہ اصلاحی سرکلر (۱) نصرت گرلز سکول (۲) جامعہ نصرت (۳) تمام حلقہ جات ربوہ کے علاوہ لجنات کو بھجوایا گیا۔امتحان کتاب فتح اسلام :- ۲۸ نومبر کو امتحان کتاب فتح اسلام ہوا جس میں باون ممبرات شامل ہوئیں۔محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ بنت با بوا کبر علی صاحب مرحوم اول، محترمہ ناصرہ سلطانہ صاحبہ محمود آباد اسٹیٹ دوم اور محترمہ رفیقہ بیگم صاحبہ بنت شیخ مختار نبی صاحب گوجرانوالہ سوم رہیں۔سے (نوٹ : ملکی حالات ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اس سال صرف ایک ہی امتحان ہوسکا) جلسہ سالانہ مستورات :۔حسب معمول اس دفعہ بھی احمدی مستورات کا جلسہ سالانہ ۲۶۔۲۷۔۲۸ /دسمبر۱۹۵۳ء کور بوہ میں منعقد ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اس دفعہ مستورات میں تقریر نہ فرما سکے۔اس لئے حضور کی تقاریر تینوں روز مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔بعض دیگر تقاریر بھی مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔اس دفعہ جلسہ کے مختلف اجلاسوں کی صدارت کے فرائض حضرت سیدہ ام ناصره محترمه سیده نصیرہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب نے ادا کئے۔مقررات اور ان کے موضوع یہ تھے:۔جلسہ سالانہ اور اس کی غرض و غایت محترمه استانی میمونه صاحبه موجودہ زمانہ میں احمدی مستورات کی ذمہ داریاں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مد ظلہ العالی ا رجسٹر کا رروائی لجنہ مرکزیہ الفضل ۱۲ فروری ۱۹۵۴ء صفحه ۵