تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 340
340 ۲۔دینی خدمت کا جذبہ ۳۔خدمت خلق کا شوق ۴۔انتظامی قابلیت آپ کو قرآن کریم سے بے حد محبت تھی۔قرآن کریم پر غور کرنے اور اس کے مطالب کوحل کرنے کا ذوق تھا۔اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنے یا کسی سے پوچھنے اور اپنے علم میں اضافہ کرنے سے بالکل نہ جھجکتی تھیں۔چھوٹی عمر میں ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی شادی ہوگئی۔قریباً ساری تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیر تربیت، پھر حضرت خلیفتہ امیج الاول رضی اللہ عنہ سے، اور بعد ازاں خود حضرت میر محمد الحق صاحب سے حاصل کی۔خاصی بڑی عمر میں مولوی کا امتحان پاس کیا۔قرآن کریم کے درسوں میں ہمیشہ قرآن مجید کا وہ نسخہ جس کے درمیان سادے کا غذ لگوائے تھے آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔کوئی نئی بات یا نیا نکتہ سنتیں اسی وقت نوٹ فرما لیتیں۔علم حدیث پر اچھا خاصا عبور حاصل تھا۔کئی افراد کو آپ سے اس سلسلہ میں شرف تلمذ حاصل ہوا۔اسی طرح علم الفرائض اور علم عروض پر بھی اچھا عبور حاصل تھا۔عربی بہت اچھی جانتی تھی۔جو بات خود معلوم نہ ہوتی اس کو سمجھنے یا سیکھنے میں کبھی عار محسوس نہیں کی اور جو خود آتا تھا اسے دوسروں کو سکھانے میں کبھی بخل سے کام نہ لیا۔خدمت خلق کا بے لوث جذبہ دل میں رکھتی تھیں۔لجنہ اماءاللہ کے اجلاسوں میں کارکنات اور عہدہ داروں کو ہمیشہ خدمت خلق کی طرف توجہ دلاتیں اور ہر رنگ میں مستحقین کی خدمت کرنے کی ہدایت فرمائیں۔آپ کی ہدایت ہوتی تھی کہ ہر کارکن کو مستحقین کے صحیح حالات اور پتوں کا علم ہونا چاہیے اور مد دبغیر کسی تشہیر کے اور بغیر اس کے سوال کئے کی جانی چاہیے۔دینی خدمت کا شوق بے حد تھا۔شادی کے بعد ابتدائی زمانہ علم سکھنے میں گذرا اور لجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم ہوتے ہی آپ نے لجنہ اماء اللہ کے ہر کام میں حصہ لیا۔نائب صدر کا عہدہ تو کئی سال بعد آپ کو ملا۔بغیر کسی عہدہ اور نام کے ہر خدمت کے وقت آپ سب سے پہلے ہوتیں۔عموماً پس منظر میں رہ کر کام کیا کرتیں۔کوئی کام کسی کارکن کے سپرد ہوتا تو وہ کارکن عموماً آپ ہی کے پاس جا کر سمجھتا اور کرتا تھا۔آپ کا دینی خدمات کا جذ بہ آپ کے مندرجہ ذیل خط سے روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے۔آپ نے بھوانی سے حضرت میر محمد اسحاق صاحب کو لکھا:۔