تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 339 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 339

339 حضرت سیّدہ ام داؤ دصاحبہ کی وفات:۔۱۹۵۳ء میں لجنہ اماء اللہ کو ایک نہایت بابرکت وجود کی جو لجنہ کی روح رواں اور غیر معمولی قائدانہ صلاحیت کی مالک تھیں جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑا۔یہ بزرگ اور جلیل القدر خاتون لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی نائب صدر حضرت ام داؤ دسیدہ صالحہ بیگم صاحبہ تھیں جو لمبی علالت کے بعد ۸ ستمبر کو لا ہور میں رحلت فرما گئیں۔آپ سلسلہ احمدیہ کے ایک جید عالم اور محدث اور حضرت ام المومنین کے بھائی حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی اہلیہ اور ایک بہت بڑے بزرگ حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کی پوتی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مقرب صحابی حضرت پیر منظور محمد صاحب مصنف قاعدہ میسر نا القرآن کی صاحبزادی اور جامعہ احمدیہ کے موجودہ پر نسپل محترم سید داؤد صاحب کی والدہ ماجدہ تھیں۔صحابیہ اور موصیہ ہونے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کشوف اور رڈیا صالحہ کی نعمتوں سے بھی نوازا تھا۔آپ لجنہ اماءاللہ کی ابتدائی چودہ ممبرات میں سے تھیں۔آپ کا نام ساتویں نمبر پر تھا۔۲ لجنہ اماءاللہ کی نائب صدر کی حیثیت سے احمدی مستورات کی دینی علمی اور اخلاقی ترقی اور تربیت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتی تھیں۔غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی مالک تھیں۔یہی وجہ ہے کہ جس کام کو سنبھالتی تھیں اسے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیتی تھیں۔جلسہ سالانہ خواتین کے موقعہ پر مہمان نوازی کے انتظامات آپ کی نگرانی میں بڑی خوش اسلوبی سے انجام پاتے تھے۔لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کے ابتدائی ایام میں آپ کی تعمیری تجاویز علمی مضامین اور عملی میدان میں آپ کا نمونہ ایسے اہم کام ہیں جو لجنہ کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہیں گے۔آپ کو ابتداء ہی سے متواتر لجنہ کی اہم خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔آپ کی سیرت میں چار باتیں خصوصا نمایاں نظر آتی ہیں:۔ا۔قرآن کریم سے محبت اور علم حاصل کرنے کا شوق ایر پورٹ لجنہ اماءاللہ مرکزی ص ۵۹ - ۱۹۵۸ء احمدی خاتون سلسلہ الجدید جلد نمبر انمبر اصفحہ ۶ و تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول ص ۷۰