تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page iii of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page iii

404 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، نَحْمُدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُود تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۸ءتک قیام پاکستان اور ہجرت کے موقع پر احمدی خواتین کی جرات و دلیری کے زرریں نمونے نئے مرکز میں کام کا از سر نو آغاز اور خدمت دین کے عظیم الشان کام کرنے کی توفیق قیام پاکستان کے بعد لجنہ اماءاللہ کا شجر پچھین ۲۵ سال میں ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا تھا اور ہندوستان سے باہر بھی اس کی شاخوں کا پھیلاؤ شروع ہو چکا تھا کہ اچانک ایک زبر دست آندھی آئی ایک ایسا طوفان اٹھا جس نے اس درخت کی جڑیں تک ہلا کر رکھ دیں۔یہ طوفان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ظہور پذیر ہوا۔اس کے نتیجہ میں جماعت کے بیشتر حصہ کو اپنے مرکز سے