تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 21
21 (۸) خط صالحہ بیگم صاحبہ عفیفہ لاہور بنام جناب مقصود احمد صاحب واقف زندگی:۔آپ سوچتے ہوں گے کہ میری بیوی بھی کیسی دنیا دار ہے کہ ایک دفعہ بھی اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ قربانی کی گئی ہے جس کا دل پر ہر گز ملال نہیں ہونا چاہیئے۔مگر سچ پوچھئے اور یقین جانئے میں یہ باتیں پوشیدہ ہی رکھنا چاہتی تھی۔میں سوچتی تھی اپنے جذبات ظاہر کر کے خواہ مخواہ ریا کار بنوں۔مگر پھر دل نے کہا کہ خاوند سے بھی کوئی بات پوشیدہ رکھی جاسکتی ہے اس لئے اب میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں بالکل مطمئن ہوں اور اپنے آپ میں بہت خوشی محسوس کرتی ہوں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس شاندار قربانی کا موقع عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔لوگ دُنیاوی جنگوں میں سمندر پار چلے جاتے تھے اور جدائی کی گھڑیاں کئی ماہ گزارتے تھے تو کیا آپ جو کہ ایک دینی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔اس کی خاطر اگر ہم تھوڑی سی جدائی برداشت کریں تو نامعلوم 66 اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ہم پر کیا افضال نازل فرمائے اے خدا تو ایسا ہی کر یو۔آمین ثم آمین۔“ (۹) محترمہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے اپنے بیٹے محترم ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی نعیم احمد صاحب اور ان کے بہنوئی محمد رفیق صاحب اور ان کے بھتیجے عبد الرشید کے نام حسب ذیل نصیحت نامہ بھیجوایا۔جو آزمائش کا وقت تم سب پر آیا ہے اس کو دلیری اور جوانمردی سے گزارو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تم سب کو ثابت قدم رکھے اور دین کی خدمت کا زیادہ سے زیادہ موقع عطا فرمائے۔“ (۱۰) محترمہ امتہ الرشید شوکت صاحبہ نے اپنے بھائی محترم مولوی نورالدین صاحب منیر انچارج بیعت کو ذیل کا خط لکھا:۔آپ کو خدا تعالیٰ نے قادیان میں رہ کر جہاد کرنے کا موقع دیا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزاء دے اور استقامت عطا فرمائے۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اپنے آپ آنے کی درخواست نہ دیں جب حضور خود بلائیں گے تو آئیں۔(۱۱) محترمہ عائشہ بی بی صاحبہ لاہور نے اپنے خاوند اللہ دتہ صاحب بٹ محلہ دارالرحمت قادیان کے نام یہ مکتوب لکھا:۔آپ نے بڑا اچھا کیا ہے جو قادیان میں رہنے کے لئے نام دے دیا ہے اور اب آپ کو چاہیئے کہ بغیر اجازت امیر صاحب کے ہر گز قادیان سے باہر نہ جائیں“۔