تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 276 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 276

276 امریکن احمدی جماعتوں کی چوتھی سالانہ کنوینشن کے موقع پر لجنہ اماء اللہ کا سالانہ اجتماع بھی ہوا۔جس میں ایک صد سے زیادہ بہنیں شریک ہوئیں۔اس موقع پر حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے اس امر پر خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا کہ امریکہ کی احمدی بہنوں نے مسجد ہالینڈ کے لئے قابل تعریف مالی قربانی پیش کی ہے۔شام کو منتظمین نے تمام بہنوں کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔لے نیگومبو ( سیلون ) : ستمبر ۱۹۵۱ء میں بیگومبوشہر میں لجنہ اماءاللہ قائم ہوئیں۔سے انتخابات محتر مہ مبارکہ نسرین صاحبہ اہلیہ مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر کی زیر نگرانی ہوئے۔محترمہ چراغ بی بی صاحبہ اہلیہ محترم ایم۔جمال الدین صاحب صدر اور محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم بشیر احمد صاحب سیکرٹری منتخب ہوئیں۔ہفتہ میں دوبار لجنہ کے اجلاس ہوتے ہیں جن میں تقاریر کے علاوہ دینی اسباق بھی پڑھائے جاتے۔ماہانہ اجلاسوں میں مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر لجنہ کی ممبرات سے جماعتی ضروریات کے مطابق خطاب کرتے۔نماز، قرآن مجید ناظرہ اور باترجمہ کے علاوہ بچیوں کو اردو کا قاعدہ بھی پڑھایا جاتا اور ہفتہ وار امتحان لیا جاتا۔اردو اور تامل زبان میں دینی نظمیں ناصرات کو یاد کرائی جاتیں۔لجنہ اماءاللہ بیگومبو نے لجنہ کا چندہ جمع کر کے مختلف رفاہی کام سرانجام دینے شروع کر دیئے ممبرات کی شادیوں پر لجنہ کی طرف سے تحائف پیش کئے جاتے اور مہمان نوازی کا فرض بھی ادا کیا جا تا۔محترم محمد اسمعیل صاحب منیر کی تحریک پر اشاعت اسلام کے لئے فنڈ جمع کیا جاتا۔مبلغین کی بیگمات کی اعزازی دعوت :۔مورخہ یکم مئی ۱۹۵۱ء کو بعد نماز عصر نصرت گرلز ہائی سکول کے احاطہ میں بیرونی ممالک سے واپس آنے والی بہنوں محترمہ کلثوم باجوہ صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سابق امام مسجد لنڈن محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولانا نذیر احد علی صاحب مبلغ افریقہ، محترمہ امۃ الرحیم صاحبہ اہلیہ صوفی مطیع الرحمن صاحب مبلغ امریکہ اور ماریشش جانے والی بہن محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ اہلیہ محترم ل الفضل ۳۱ مئی ۱۹۵۱ء ص ۴ و ۱۳ نومبر ۱۹۵۱ء ص ۱۰ ۲ الفضل ۱۸/ نومبر ۱۹۵۱ ص ۵