تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 264
264 پہنچانا ایک نرس کے بغیر بے حد مشکل تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے ۱۹۶۸ء میں ڈسپنسری کی منظوری مرحمت فرمائی اور کالج کی طالبات کے لئے ایک با قاعدہ نرس کا تقرر ہوا۔سائنس بلاک :۔مجلس مشاورت ۱۹۶۷ء کے موقع پر جامعہ نصرت میں سائنس کلاسز کھولنے کی اجازت حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے مرحمت فرما دی اور فیصلہ فرمایا کہ پچھتر ہزار رو پید لجنہ اماءاللہ جمع کرے گی اور اتنا ہی خرچ صدر انجمن احمد یہ کرے گی چنانچہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ مدظلہ العالی صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے چندہ سائنس بلاک لجنہ کی ممبرات کے سامنے پیش کیا اور بار باراخبارت کے ذریعہ احمدی خواتین کو اس طرف توجہ دلائی۔۸ مارچ ۱۹۷۰ء کو بعد نماز عصر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے وکلاء اور ناظر صاحبان کے ہمراہ جامعہ نصرت میں تشریف لا کر سائنس بلاک کا سنگ بنیاد رکھا۔سائنس کلاسز کا اجراء:۔۱۹۷۰ء کا سال جامعہ نصرت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سال ایف۔الیس سی میڈیکل اور نان میڈیکل کلاسز کا اجراء ہوا۔۱۹۷۱ء میں پہلی بار طالبات ایف۔ایس سی کے امتحان میں شامل ہوئیں اور نتیجہ میڈیکل گروپ کا۶ ء۹۶ فیصد رہا اور نان میڈیکل گروپ کا سو فیصدی رہا۔کالج کے قیام کو بیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔اس عرصہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ لگایا ہوا پودا بڑی سرعت سے پھلا پھولا۔اس مختصر سی زندگی میں ہر برس اس کا قدم شاہراہ ترقی کی طرف گامزن رہا۔وہ کالج جس میں پہلے برس صرف سولہ طالبات نے داخلہ لیا تھا آج اس میں چارصد طالبات زیر تعلیم ہیں۔کالج کے سٹاف میں جہاں پہلے سال حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی واحد خاتون تھیں وہاں آج خدا تعالیٰ کے فضل سے کالج کا سٹاف ۳۲ سند یافتہ خواتین پر مشتمل