تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 254 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 254

254 پس محنت ایک ایسی چیز ہے کہ اس پر زور دینا اور اس کی عادت ڈالنا کیریکٹر میں ایک خصوصیت پیدا کر دیتا ہے۔اس کے علاوہ شریعت کے احکام پر غور کر کے بعض اور اخلاق بھی نکالے جاسکتے ہیں ان میں سے دو تین اخلاق کو لے لو اور انہیں اپنا ماٹو قرار دے لو۔پھر ہال میں ، کمروں میں، لائبریری کی کتب سکول کے رجسٹروں پر سب پر ان کی مہریں لگا لو۔لباس پر بھی اسے بطور پیج لگالو۔گلے کے بٹن والے حصہ پر یا بازو پر کوئی جگہ متعین کرلی جائے اور وہاں اسے لگا لیا جائے تاکہ آہستہ آہستہ یہ کالج کا ایک مخصوص کیریکٹر بن جائے۔اگر تم اس طرح کام کرو تو تم عملی طور پر بہت کچھ کرلوگی۔میں نے جو کچھ بتایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تم اپنی پچھلی ٹریڈیشنز کو قائم کرو اور دوسری قوموں کی نقل کم کرو۔دوسرے اس قسم کی دلچسپی پیدا کرنے کے لئے طالبات کی ماؤں کو شامل کرو تا انہیں پتہ لگے کہ ان کی لڑکیاں کالج میں کس قسم کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔تیسرے بعض اخلاق کو اپنا مائو قرار دے لو تا وہ تمہارے کالج کی مخصوص روایت بن جائے۔پھر ہر طالب علم اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے تا کہ دیکھنے والے اسے ایک نمایاں حیثیت دیں۔جلسہ ہائے تقسیم اسناد :۔۱۹۶۲ء۔۱۹۶۳ء کو جامعہ نصرت کالج کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تقسیم اسناد تقسیم انعامات کی سادہ اور مؤثر تقریب منعقد ہوئی جو خالص اسلامی ماحول میں پائیہ تکمیل کو پہنچی۔اس میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی نے صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔تقسیم اسناد وانعامات کی اس پہلی تقریب کے بعد ۱۹۶۳ء سے لے کر ۱۹۷۱ء تک حسب ذیل شخصیتوں نے مہمان خصوصی کے فرائض سرانجام دیئے اور اپنے قیمتی خطابات سے نوازا۔مہمان خصوصی سن ١٩٦٣ء ١٩٦٤ء بیگم محمودہ سلیم خان صاحب صوبائی وزیرتعلیم ڈاکٹر رفعت رشید ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک ے مصباح ماہ نومبر ۱۹۵۵ء والاذهار لذوات الخمار ص ۱۳۴ تا ص ۱۴۶