تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 253
253 حضرت مصلح موعودؓ نے طالبات جامعہ نصرت کو اپنا اٹو بنانے کا ارشاد فرماتے ہوئے کہا:۔غرض روایات ایک جتھا بنادیتی ہیں اس لئے روایتوں کا محفوظ رکھنا قوم کی ترقی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔اسی لئے یورپ میں سکولوں اور کالجوں نے اپنے اپنے ماٹو مقرر کئے ہوئے ہیں اور طلباء اور پروفیسروں کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے اخلاق کو اپنے اندر پیدا کریں اور پھر انہیں دوسروں کے اندر بھی جاری رکھنے کی کوشش کریں۔ہندوستان میں صرف علی گڑھ کالج تھا جس نے اپنی روایات کو قائم رکھنے کی بنیاد ڈالی۔علی گڑھ یو نیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء ہمیشہ دوسروں سے ممتاز رہے ہیں اور انہوں نے بڑی وسع الحوصلگی دکھاتی ہے اور اچھے کام کئے ہیں۔اسی طرح آکسفورڈ اور کیمبرج کے فارغ التحصیل طالب علم بھی اپنی ٹریڈیشنز اور روایات کو قائم رکھتے ہیں۔یورپ میں ہر کالج نے اپنا اپنا مائو بنایا ہوا ہے۔یہاں بھی کالج کو اپنا کوئی نہ کوئی ماٹو مطمع نظر اور مقصد قرار دینا چاہیئے اور اسے ہر وقت سامنے رکھنا چاہیئے۔مثلاً سچائی اور قربانی ہے اگر یہ ماٹو بنا دیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کالج کی سٹوڈنٹس کے اندر یہ اخلاق نمایاں طور پر پیدا ہوں تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جہاں بھی لڑکی جائے گی یہ ماٹو اس کے سامنے آجائے گا اور وہ اس کو پھیلانے کی پوری کوشش کرے گی۔پھر مائو مقرر کرنے کے بعد کالجوں کے منتظمین کتابوں اور کا پہیوں پر اس کی مہریں لگا دیتے ہیں قمیضوں پر گلے کے قریب ویسے نشان لگا دیتے ہیں۔اس طرح آہستہ آہستہ کالج سے نکل کر ایک نسل تیار ہوتی چلی جاتی ہے۔پہلے سٹو ڈنٹس ہوتے ہیں پھر ان کی اولاد ہوتی ہے پھر ان کے پوتے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ آگے چلتا جاتا ہے اور انہیں یگانگت اور وحدانیت کا احساس ہوتا جاتا ہے جس طرح خاندان چلتا ہے اسی طرح خاندان میں ایک ریت چلی جاتی ہے۔مثلاً آکسفورڈ کا ایک فارغ التحصیل طالب علم جب دوسرے شخص کے کپڑے پر آکسفورڈ کا نشان دیکھے گا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے گا اور خوشی سے کہے گا اچھا تم آکسفورڈ میں پڑھتے رہے ہو۔چاہے وہ فرانس کا ہو، جرمنی کا ہو یاکسی اور ملک کا۔جب بھی وہ آکسفورڈ کے طالب علم کو دیکھے گا وہ اس کی طرف بڑھے گا اور اسے تپاک سے ملے گا اسی طرح کیمبرج یو نیورسٹی کے طلباء کا حال ہے۔“ نیز حضرت مصلح موعودؓ نے طالبات کو محنت کی عادت ڈالنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا :۔