تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 231 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 231

231 ۱۱۔امتہ الحی عمر صاحبہ بنت مکرم صاحبزادہ عبدالسلام عمر صاحب مرحوم ۱۲۔نعیمہ صاحبہ بنت مکرم حضرت حافظ غلام محمد صاحب مرحوم ۱۳۔مبارکہ خاتون صاحبہ بنت مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب ناظر دیوان ۱۴۔حمیدہ بانو صاحبہ بنت مکرم عبدالکریم صاحب مرحوم ۱۵۔امتہ المجید صاحبہ بنت مکرم عبد الرحمن صاحب ۱۶۔امۃ الشافی صاحبہ بنت مکرم چوہدری نذیر حسین صاحب ان ابتدائی طالبات میں سے چار طالبات کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ نصرت کی خدمات سرانجام دینے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تعداد سال بسال بڑھتی چلی گئی حتی کہ ۱۹۵۱ء میں جس کالج کی ابتدا سولہ طالبات سے ہوئی تھی آج اس میں طالبات کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے چارسو ہے۔الحمد اللہ علی ذالک۔ابتدائی اسٹاف: کالج چلانے کے لئے سب سے اہم اور ضروری مسئلہ اساتذہ کا تھا۔احمدی مستورات میں اول تو بہت کم ایم۔اے پاس تھیں دوسرے جو چند ایک تھیں وہ مختلف کالجوں میں کام کر رہی تھیں اس لئے مجبور امر دلیکچرار رکھے گئے بعض پورے وقت کے لئے اور بعض جز وقتی۔پرنسپل جامعہ نصرت : محترمہ فرخندہ بیگم صاحبہ اہلیہ سیدمحمود اللہ شاہ صاحب مرحوم نے کالج کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔اگر چہ اس وقت آپ صرف بی۔اے۔بیٹی تھیں تاہم حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو جامعہ نصرت کالج کی پرنسپل مقر فرمایا اور اس کے بعد آپ کو ایم۔اے کرنے کے لئے لاہور بھجوایا۔اس عرصہ میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ مدظلہ العالی ( ڈائرکٹرس) پرنسپل اور لیکچرار کے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔پہلے سال کی تعلیم مندرجہ ذیل اساتذہ کے سپرد ہوئی:۔