تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 14
14 ان ہولناک اور تباہ کن ایام میں جبکہ مشرقی پنجاب کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک لاکھوں مسلمان انتہائی مظالم کا شکار ہورہے تھے اور سفاکوں کے ظلم و ستم سے بچنے اور اپنے ننگ و ناموس کو بچانے کی کوئی صورت نہ پاتے تھے۔چنانچہ اب تک لاکھوں ہی موت کے گھاٹ اتر چکے اور لاکھوں ابھی تک مخلصی پانے کا کوئی ذریعہ میسر نہ آنے کی وجہ سے موت کے پنجہ میں گرفتار ہیں یہ انتظامات۔قادیان سے ہزاروں عورتوں اور بچوں کو صحیح سلامت نکال لانے کے انتظامات۔خواتین کے ننگ و ناموس اور عزت و حرمت کو محفوظ رکھنے کے یہ انتظامات۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی دن رات کی ان کوششوں اور مساعی کا ہی نتیجہ ہے جنہیں خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے شرف قبولیت بخشا اور جن کی کامیابی کی مثال جان و مال ، عزت و آبرو کی تباہی کے اس غیر معمولی سیلاب میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔اور جب یہ دیکھا جائے کہ ہمارے راستہ میں جس قدر مشکلات حائل تھیں ، ہمارے مقابلہ میں رکاوٹوں کے جس قدر پہاڑ کھڑے تھے اور ہم بے سروسامانی کی جس حد کو پہنچے ہوئے تھے۔اس کی مثال بھی کسی اور جگہ نہیں مل سکتی تو اس کامیابی اور کامرانی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے بے حد وحساب مشکلات اور رکاوٹوں کے دوران میں قادیان کے ہزاروں بچوں، عورتوں اور مردوں کو قادیان سے نکالنے کا جو انتظام فرمایا وہ اتنا شاندار اور اس قدر کامیاب تھا کہ اس کی مثال سارے مشرقی پنجاب میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔اس انتظام کی کامیابی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کی پابندی کرنے والے اور اس کے ماتحت قادیان سے آنے والے ہزار ہا نفوس میں سے خطرات اور خدشات سے پڑ طویل راستہ میں نہ تو کوئی ایک بھی متنفس ضائع ہوا اور نہ ظالم اور جفا کا رسکھوں کے ہاتھ پڑا۔حالانکہ راستہ تو الگ رہا خود قادیان میں ہندو فوج، ہند و پولیس اور سکھ لٹیروں اور قاتلوں کے جتھوں کی یہ حالت تھی کہ جس کو چاہتے بے دریغ اور بلاوجہ گولیوں کا نشانہ بنا دیتے۔جسے چاہتے بلا خوف وخطر کوٹ لیتے اور دن دہاڑے دیہاتی پناہ گزینوں کے مجمع میں گھس کر عورتوں کو اُٹھا لے جاتے۔اور مزاحمت کرنے والوں کو گولیوں یا کر پانوں سے موت کے گھاٹ اُتار دیتے۔ان حالات میں کئی دنوں تک گھری ہوئی جماعت احمدیہ کی ہزاروں عورتوں اور بچوں اور مردوں کو ایک بھی جان کے ضائع یا گم ہونے کے بغیر درندہ صفت دشمنوں کے پنجہ ستم سے نکال کر صحیح سلامت منزل مقصود تک لے جانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں