تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 213 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 213

213 عورتوں کو ان کے ووٹ کے متعلق بتایا اور سمجھایا جاتا رہا کہ ووٹ کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔فہرستیں وغیرہ چیک کی گئیں۔پولنگ کے دنوں میں روزانہ صبح بسوں میں کم و بیش تمیں عورتیں ربوہ سے ڈیوٹی پر جاتیں اور ووٹر عورتوں کے ووٹ دلوا کر واپس آتیں۔صدرانجمن احمد یہ قادیان کے امتحانات:۔(۱) اس سال صدر انجمن احمدیہ قادیان کی نظارت تعلیم و تربیت نے کتاب ”ہمارا خدا کا امتحان لیا۔اس میں محترمہ زکیہ صاحبہ بنت ملک محمد اسماعیل صاحب پٹنہ اول اور ان کی ہمشیرہ محترمہ صالحہ صاحبہ دوم رہیں۔(۲) نظارت تعلیم و تربیت قادیان کی تحریک پر قادیان میں مقامی لجنہ اماءاللہ قائم ہوئی اور محترمہ عابدہ سلطانہ صاحبہ (اہلیہ مکرم مولوی محمد صادق صاحب ناقد متعلم جامعة المبشرین قادیان ) کا تقرر بطور صدر ہوا۔ماہ جولائی ۱۹۵۱ء میں پھر انتخاب کروایا گیا اور اس میں محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر بشیر احمد صاحب لجنہ اماء اللہ مرکز یہ ہند کی صدر منتخب ہوئیں۔مقامی لجنہ کی صدر بھی ان کو ہی بنایا گیا۔بعد میں جب محترمہ سیدہ امتہ القدوس صاحبہ بیگم محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب شادی کے بعد قادیان تشریف لے گئیں تو مئی ۱۹۵۵ء سے آپ صدر لجنات اماءاللہ ہندوستان منتخب ہوئیں۔لجنہ اماءاللہ لائل پور کا معائنہ اور نقار میں:۔۲۵ مئی ۱۹۵۰ء بروز جمعرات لجنہ اماء الله مرکزیہ کی طرف سے لجنہ اماءاللہ لائل پور کا معائنہ کیا گیا۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ مدظلہ العالی جنرل سیکرٹری لجنہ اماء الله مرکز یہ محترمہ استانی میمونه صوفیہ صاحبہ سیکرٹری مال محتر مہ امتۃ الرشید شوکت صاحبہ سیکرٹری تبلیغ اور محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ کے ہمراہ لائل پور تشریف لے گئیں۔نماز ظہر کے بعد مسجد احمد یہ لائل پور میں زیر صدارت حضرت سیدہ ممدوحہ یہ جلسہ منعقد ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ نے اپنی تقریر میں صحابیات آنحضرت ﷺ کی قربانیاں بیان کر کے مستورات کو توجہ دلائی کہ جب تک وہ بھی اس قسم کی قربانیاں نہیں کریں گی اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتیں۔اس کے بعد محترمہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ نے اپنی ا الفضل ۲۹ ستمبر ۱۹۵۱ ء ص ۲ کالم نمبر ۲