تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 134 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 134

134 تھی۔ہر لجنہ کی عہدیدار اپنی رپورٹ بھجوا دیتی تھی۔اس کنوینشن میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ میں مرکزی لجنہ کا قیام کیا جائے چنانچہ سیکرٹری لجنہ اماءاللہ علیہ علی صاحبہ (انڈیانا پولیس ) منتخب ہوئیں لے لجنہ اماءاللہ نیروبی (مشرقی افریقہ ) لجنہ اماءاللہ نیروبی کا انتخاب مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب مبلغ کی زیر نگرانی عمل میں آیا۔آپ ہر اتوار کو احمدی عورتوں میں قرآن کریم کا درس دیتے اور دس بچوں اور دس عورتوں کو قرآن کریم ناظرہ اور باترجمہ اور قاعدہ میسر نا القرآن پڑھاتے رہے۔قیام لجنہ اماءاللہ لنڈن: جماعت احمد یہ لنڈن کے ۱۹۴۹ء کے سالانہ اجتماع میں لجنہ اماءاللہ کے قیام کا ریزولیشن پاس کیا گیا تھا چنانچہ اس کے مطابق ۱۱۔دسمبر ۱۹۴۹ء کو مستورات کا اجلاس ہوا جس میں عہد یداران کا انتخاب عمل میں آیا اور اس طرح وہاں پر باقاعدہ لجنہ اماءاللہ کی بنیاد رکھی گئی۔سے لجنہ لنڈن کے ابتدائی حالات: محترم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اس زمانہ میں امام مسجد لنڈن تھے۔آپ کی اہلیہ محترمہ کلثوم باجوہ صاحبہ جو آپ کے ہمراہ تشریف لے گئی تھیں صدر لجنہ منتخب ہوئیں۔نائب صدر محتر مہ اہلیہ صاحبہ محترم ڈاکٹر محمد رمضان صاحب، سیکرٹری ایک انگریز خاتون محترمه بنت ویلز صاحبه ، سوشل ورکر محترمہ حمیدہ سٹیڈ فورڈ اور سیکرٹری مال محترمہ مسز لسٹن تھیں۔ماہانہ اجلاس ہوتے تھے۔ایک دو دفعہ چھوٹا سا مینا بازار بھی لگایا گیا جس میں بہنیں اپنے سامان سے چیزیں بنا کر لاتیں اور اس کی آمد سے اخراجات پورے کئے جاتے۔ایک دفعہ وسیع پیمانہ پر پارٹی دی گئی۔بہت سی غیر مسلم خواتین کو بلایا گیا۔شہزادی الزبتھ ( موجودہ ملکہ انگلستان ) کی شادی کی تقریب پر قرآن کریم انگریزی کی پہلی جلد محترمہ کلثوم باجوہ صاحبہ نے لجنہ اماءاللہ کی طرف سے بھجوائی۔شہزادی موصوفہ نے اپنے دستی شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ وہ خواتین جماعت احمدیہ کے اس تحفہ کے انتخاب کو سراہتی ہیں۔الفضل ۲۔اکتوبر ۱۹۴۹ء صفحه ۴ الفضل ۱۹۔نومبر ۱۹۴۹ء صفحه ۴ الفضل ۱۵۔مارچ ۱۹۵۰ء صفحہ ۶