تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 120 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 120

120 ساتھ ہی شروع ہوگئی۔استانی محمد بی صاحبہ مولوی فاضل مدرس کے فرائض سر انجام دیتی تھیں۔ان کلاسز میں مڈل یا میٹرک پاس لڑکیاں لی جاتی تھیں۔بعد میں جامعہ نصرت کو کالج کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا جس میں با قاعدہ دینیات کا کورس بھی رکھا گیا۔ربوہ میں صفائی کا انتظام : ربوہ کی آبادی کے ابتدائی دنوں میں خاکروبوں کا انتظام نہیں تھا انتظام ہوا بھی تو بہت تھوڑا۔لہذ ا صفائی کا خیال خود لوگوں کو رکھنا پڑا۔اس کے بہتر انتظام کے لئے لجنہ نے اپنے طور پر صفائی کی مہم کا آغاز کیا۔محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ منظمہ مقرر ہوئیں اور آپ کے ساتھ محترمہ صاحبزادی امتہ المجید بیگم صاحبہ محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم چوہدری صلاح الدین ایوبی صاحب محتر مہ اہلیہ صاحبہ محترم محمد اسمعیل صاحب معتبر مرحوم اور محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم منشی محمد الدین صاحب معاون تھیں۔صفائی کے لئے آپ ہدایات دیتیں اور نگرانی فرماتیں۔اس کے نتیجہ میں گھروں میں اور اپنے گھروں کے باہر عورتیں صفائی کا خاص خیال رکھتیں۔لجنہ اماءاللہ ربوہ: اپریل ۱۹۴۹ء کے جلسہ سالانہ کے بعد جب یکصد کے قریب مستورات مستقل رہائش کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد کے مطابق یہاں آباد ہو گئیں تو لجنہ کے ہفتہ وار اجلاس بھی شروع ہو گئے۔اکتوبر تک ایک ہی جگہ اجلاس ہوتے رہے۔اس دوران ریلوے لائن کے دونوں طرف کچے کوارٹر عمیر ہوکر آبادی ہوگئی اور لجنہ مرکزیہ کے عہدیداران کے تشریف لے آنے پر ۱۰۔اکتوبر ۱۹۴۹ء کو لجنہ مرکزیہ کا سب سے پہلا اجلاس منعقد ہوا اس میں ربوہ کو دو حلقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ایک ریلوے لائن کے جنوبی جانب اور دوسرا شمالی جانب۔ان اجلاسوں میں تعلیم و تربیت۔صفائی اور دستکاری کی طرف خاص توجہ دی گئی جن کی اس وقت بہت ضرورت تھی۔جب صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے کوارٹر تعمیر ہوئے اور ان میں آبادی ہوگئی تو مزید حلقے بنتے چلے گئے۔حتی کہ مئی ۱۹۵۳ ء میں آٹھ حلقے قائم ہو چکے تھے اور نمبرات لجنہ ربوہ کی تعداد پانچ صد تک پہنچ چکی تھی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی