تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 119 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 119

119 ۲ محترمه باجرہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترمہ صوفی غلام محمد صاحب مرحوم ۳- محترمه میمونه صوفیه صاحبه ۴- محترمہ امتہ العزیز عائشہ صاحبہ بی۔اے، بی ٹی (سابق ہیڈ مسٹریس) بنت محترم بابو محمد امیر صاحب مرحوم ۵ محترمه کنیر فاطمه صاحبه ۶ محترمہ سیدہ صاحبہ بنت حضرت میر مہدی حسن صاحب ۷۔محترمہ رحمت النساء صاحبہ مرحومہ اہلیہ محترم ماسٹر مولا بخش صاحب مرحوم ۸ - محتر مہ رحمت النساء صاحبہ بنت محترم مولانا رحمت علی صاحب مبلغ انڈونیشیا ۹- محترمہ حمیده صابرہ صاحبہ بنت محترم ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر ۱۰ محتر مہ امتہ اللہ بیگم صاحبہ ۱۱ محترمہ عائشہ ایوب صاحبہ ۱۲- محترمه استانی سردار بیگم صاحبه ۱۳ محترمه استانی زینب بیگم صاحبہ اہلیہ محترم عبد اللطیف صاحب ۱۴۔محترمہ استانی صفیہ بیگم صاحبہ ب ٹھیکیدار ۱۵- محترمه استانی عنایت بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولوی محمد یار صاحب عارف ۱۶- محترمه استانی منظور فاطمہ صاحبہ بنت محترم چوہدری غلام محمد صاحب مینیجر نصرت گرلز سکول ۱۷۔محترمہ استانی حور با نو صاحبہ پانی پتی اس وقت طالبات کی تعداد ڈیڑھ ہزار اور اساتذہ کی بیالیس " ہے۔جامعہ نصرت کی ابتدائی شکل ابتداء قادیان میں جامعہ نصرت صرف دینیات کی کلاسز درجہ مہدہ، درجہ علیمہ اور درجہ عالمہ وغیرہ چھ کلاسز پر مشتمل تھا۔قادیان سے ہجرت کے بعد دوبارہ اس کی پڑھائی نصرت گرلز سکول کے له الفضل ۲۹ مئی ۱۹۴۹ ء صفحه ۲