تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 116 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 116

116 ا۔جو روپیہ قادیان میں دفتر لجنہ اماءاللہ کے لئے جمع کیا گیا تھا وہ اس میں سے منہا کیا جائے۔۲۔ربوہ کی زمین کے لئے۔/ ۲۴۰۰ جمع کیا گیا تھا وہ اصل رقم سے منہا کیا جائے۔تجویز نمبر ۲: لجنہ اماء اللہ کی عہدہ داروں کے لئے مرکز میں ایک ٹر میٹنگ کلاس کھولی جائے۔یہ کلاس ہر چھ ماہ کے بعد ایک ماہ کے لئے ہو جس میں عہدہ داروں کو علاوہ دینی تعلیم اور تربیت کے لجنہ اماءاللہ کے تمام شعبوں کا کام کرنا بھی سکھایا جائے۔فیصلہ:۔کثرت رائے سے یہ تجویز منظور کی گئی۔تجویز نمبر ۳:۔مرکز کو چاہیئے کہ ایک صنعتی ادارہ قائم کرے جس میں مختلف استعداد کی عورتیں مختلف کام سیکھیں تا غریب عورتوں کے لئے محنت مزدوری کے مواقع پیدا ہوں۔فیصلہ:۔اس اضافہ کے ساتھ یہ تجویز منظور ہوئی کہ اس صنعتی ادارے کی شاخیں ہر مقامی لجنہ میں بھی ہونی چائیں۔تجویز نمبر ۴:۔سال گزشتہ کی طرح امسال بھی تعلیم القرآن کلاس رمضان کے موقع پر کھولی جائے۔فیصلہ:۔یہ تجویز اس ترمیم کے ساتھ منظور کی گئی کہ جو لجنہ کسی ممبر کونہ بھجوا سکے وہ ایک ممبر کا خرچ بھیجوائے۔تجویز نمبر ۵:۔ہر ضلع کی تمام لجنات کا ایک جلسہ سال میں ایک بار ضرور ہونا چاہیئے جس میں مرکز کی ممبرات بھی شامل ہوں تا ضلع وار تنظیم مکمل ہو سکے۔فیصلہ:۔اتفاق رائے سے منظور کی گئی لے ربوہ میں نصرت گرلز ہائی سکول کا قیام اور مختصر تاریخ قادیان سے ہجرت کے بعد فوری طور پر رتن باغ لاہور میں نصرت گرلز سکول قائم ہوا۔۲۵۔اپریل ۱۹۴۹ء کو یہ سکول ربوہ میں منتقل کر دیا گیا۔ربوہ میں کھلنے والا یہ پہلا سکول تھا جو بیرکوں میں شروع ہوا۔طالبات کی تعدادہ تھی جن میں سے اکثر چنیوٹ سے آتی تھیں۔آہستہ آہستہ لڑکیوں کی تعلیم کی خاطر لوگ کوشش کر کے ربوہ میں آباد ہونے شروع ہو گئے سے ابتداء میں ہیڈ مسٹریس کے علاوہ مندرجہ ذیل خواتین نے سکول میں تعلیم دی۔لے رجسٹر کا رروائی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ الفضل ۱۰ مئی ۱۹۴۹ صفحه ۲ کالم نمبر