تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 115 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 115

115 تھیں جن کی زیر نگرانی بہت سی خواتین اور بچیوں نے جلسہ گاہ کے انتظام میں حصہ لیا۔۱۹۵۱ء تک آپ ہی جلسہ گاہ کا انتظام کرتی رہیں۔۱۹۵۲ء کے جلسہ خواتین کا انتظام محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کے سپر د کر دیا گیا۔شور می لجنہ اماءاللہ نمبر ۳ ۱۹۴۹ء بمقام ربوہ: لجنہ اماء اللہ کی تیسری شوری ربوہ میں ۱۶ اور ۱۷۔اپریل ۱۹۴۹ء کی درمیانی شب ۹ بجے منعقد ہوئی اس میں علاوہ مرکزی ممبرات لجنہ اماء اللہ کے مندرجہ ذیل پچاس لجنات کی نمائندگان شامل ہوئیں:۔ا۔راولپنڈی ۲۔سرگودھا -۳ قصور -۴ احمد نگر -۵ چنیوٹ ۶۔لالیاں ۷۔مونگ ضلع گجرات ۸ علی پور ۹ تلونڈی راہ والی ۱۰ گولیکی - چک نمبر ۸۸ ضلع لائلپور ۱۲۔شادیوال ۱۳ - کوئٹہ ۱۴ چک ۱۲۷ آر بی ۱۵ کھاریاں ۱۶ تر گڑی ۱۷۔جڑانوالہ ۱۸۔ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۹۔۔چک ۹ پنیار ضلع سرگودھا ۲۰ کراچی ۲۱۔حافظ آباد ۲۲- گوجرہ ۲۳ نوشہرہ ۲۴۔چونڈہ ۲۵ - چک ۲۹ آر بی گھسیٹ پورہ ۲۶ تلونڈی کھجوروالی ۲۷۔لائل پور ۲۸ میانی ضلع سرگودھا ۲۹- چک نمبر ۳۳ ۳۰ شیخوپورہ ۳۱۔بہلولپور ضلع سیالکوٹ ۳۲۔جھنگ ۳۳۔حیدر آباد دکن ۳۴- چکوال ۳۵- اسماعیله ۳۶۔پاکپتن ۳۷- چهور چک ۳۸- گوجرانواله ۳۹ منٹگمری ۴۰۔شیخ پور ۴۱۔کراچی ۴۲ - دوالمیال ۴۳۔مانگا چانگریاں ۴۴۔چک ۷۳ ۴۵۔سیالکوٹ ۴۶۔لاہور ۴۷ - سمبڑیال ۴۸ اوکاڑہ ۴۹۔تہال ۵۰۔پشاور۔فیصلہ جات: اس مجلس شوریٰ میں مندرجہ ذیل فیصلہ جات کئے گئے :۔تجویز نمبر : دفتر لجنہ اماءاللہ کے لئے ہیں ہزار روپے کی ضرورت ہے اور یہ ذمہ داری بہر حال لجنات اما ء اللہ نے ہی اُٹھانی ہوگی تاکہ ایک سال میں لجنہ اماءاللہ اپنا دفتر بنالے۔اس تجویز پر دوترمیمیں پیش کی گئیں۔