تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 93
986 93 پڑھ کر امریکی بہنوں کو سنایا اور سمجھایا جائے۔سب بہنوں نے اس کو بے حد پسند کیا۔اس کو پڑھنے کے بعد یہ کوشش کی گئی کہ امریکہ میں احمدیوں کے لئے الگ قبرستان بنایا جائے۔پٹس برگ کلیولینڈ۔ڈیٹن اور اوہائیو کی لجنات کی ممبرات کی مدد اور ان تھک سعی سے یہ کام بھی ہو گیا۔اس سال کے دوران لجنہ ڈیٹن نے ایک مسجد کی تعمیر کے لئے اخراجات کے لئے رقم جمع کرنے میں بھی مدد کی۔ان بہنوں نے اس مسجد کی سکیم کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔بہن کریمہ شفیق صاحبہ (صدر) کی زیر نگرانی اور زیر ہدایت اور بہن لطیفہ کریم صاحبہ اور بہن امتہ لائٹی کی کبھی نہ بھلائی جانے والی اور انمٹ قربانیوں کے طفیل جو کہ رقم وقت اور زمین کی ضرورت میں تھیں امریکہ میں پہلی مسجد تعمیر ہوئی۔تمام مقامی لجنات نے چندہ جمع کر کے اور اس کے لئے خصوصی دعائیں کر کے اس منصوبہ میں حصہ لیا۔مشنری انچارج محترم ڈاکٹر خلیل احمد صاحب ناصر نے مقامی لجنات کو ایک مرکزی صدر منتخب کرنے کی ہدایت کی جس کا کام تمام لجنات کی نگرانی تھا۔ان کی اہلیہ محترمہ بہن امتہ الحفیظ ناصر صاحبہ پہلی صدر بنیں انہوں نے بہنوں کو لباس میں سادگی اختیار کرنے پر زور دیا نیز یہ بھی نصیحت کی کہ وہ ایسی تقریبات منعقد کریں جن میں غیر احمدی مستورات کو مدعو کر کے اسلام سے روشناس کرایا جائے۔انہوں نے بہنوں کو دستکاری کی ایسی اشیاء تیار کرنے کو بھی کہا جن کو ربوہ میں جلسہ سالانہ کے موقع پر منعقدہ نمائش کے موقع پر فروخت کیا جائے۔امریکہ کی سالانہ کنوینشن کے موقع پر مقامی لجنات کی سرگرمیوں کی رپورٹیں سنانے اور آئندہ سال کے لئے عہد یداران کے انتخاب کے لئے الگ وقت مخصوص کیا گیا۔مسجد ہالینڈ کے لئے عطیات دینے کی تحریک کی گئی اور لجنہ نے اس کے لئے چندہ جمع کیا۔۱۹۵۰ء سے لے کر ۱۹۵۶ء تک کی سرگرمیوں کی سالانہ رپورٹ محفوظ نہیں ہے تاہم بہنوں نے مقامی اور قومی سطح پر اپنے کام کو کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھا۔بیشتر مقامی لجنات اپنے مشنوں سے متعلق ذمہ داریوں کو برداشت کرتی ہیں اور اکثر علاقوں میں مشنوں کو فعال رکھنے میں ممد ثابت ہوتی ہیں۔سالانہ کنونشن میں بہنوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی بہت سی خوبصورت چیزیں دیکھنے میں آئیں ان سے آمد و رقم کا نصف مرکز میں بھیج دیا گیا اور باقی نصف صدر عمومی کے پاس رہا۔اس دوران بہن علیا علی(INDIANRPOLIS) صدر عمومی منتخب ہوئیں۔ان کے دور صدارت میں مقامی لجنات میں