جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 89
89 ہدایات دیں۔وہاں کے ڈاکٹروں کے مشورہ اور علاج کے بعد حضور مورخہ 25 /ستمبر 1955 ء کو واپس تشریف لائے۔تفسیر کبیر تفسیر صغیر اور انگریزی ترجمۃ القرآن: حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ حضور نے قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کی تفسیر ایسے رنگ میں بیان فرمائی جو موجودہ زمانہ کے لحاظ سے بہت اعلیٰ اور بے نظیر ہے۔پھر حضور کی نگرانی میں قرآن کریم کا انگریزی زبان میں بھی ترجمه مع تفسیر شائع ہوا۔اُردو میں قرآن مجید کے سادہ اور با محاورہ ترجمہ مختصر تفسیری نوٹوں کے ساتھ تفسیر صغیر کے نام سے شائع ہو چکا ہے اور قرآن مجید کے بڑے حصہ کی تفصیلی تفسیر تفسیر کبیر کے نام سے کئی جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔حضور کی تحریر فرمودہ یہ تفسیر میں اتنی اعلیٰ ہیں کہ بڑے بڑے اہل علم اور معزز مسلم اور غیر مسلم اصحاب ان سے از حد متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے اقرار کیا ہے کہ مذہب کی اور قرآن مجید کی اہمیت کا اور اسلام کی حقیقی خوبیوں کا علم جس طرح ان تفسیروں سے حاصل ہوتا ہے اس طرح اور کسی کتاب سے حاصل نہیں ہوسکتا۔بہت سے لوگ حضور کی لکھی ہوئی ان تفسیروں کو ہی پڑھ کر مسلمان اور احمدی ہو گئے۔ان تفسیروں کو پڑھ کر قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے مضامین کا علم حاصل کرنے کا ایک خاص ذوق اور ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے امام حضرت اصلح الموعود کے درجات بہت بہت بلند کرے جنہوں نے یہ تفاسیر لکھ کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا۔وقف جدید 1958ء میں حضور نے ملک کے دیہاتی علاقوں میں لوگوں تک پیغام حق