جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 83 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 83

83 جماعت کٹ لگا کر پاکستان آئی تھی۔قادیان کے احمدی جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔حضور نے تھوڑے سے عرصہ میں ہی ربوہ کی زمین حکومت سے حاصل کر کے 20 ستمبر 1948ء کو یہاں جماعت احمدیہ کے نئے مرکز کی بنیاد رکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم الشان احمدی بستی قائم کر کے دکھا دی۔ربوہ کا قیام حضور کا ایک بے نظیر کا رنامہ ہے۔دیگر مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بھارت سے ہجرت کر کے آئے۔ان کی تنظیمیں بھی موجود تھیں مگر کسی کو اس طرح بستی آباد کرنے کی توفیق نہ ملی۔حضرت اماں جان کی وفات: مورخہ 20 اور 21 را پریل کی درمیانی شب کو ربوہ میں حضرت اماں جان محترمہ سید و نصرت جہاں بیگم 86 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 22 اپریل کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد آپ کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں امائنا فن کیا گیا۔حضرت اماں جان حضرت مسیح موعود کی دوسری بیوی اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی والدہ محترمہ تھیں جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔آپ کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی شادی اللہ تعالیٰ کے خاص الہام و بشارت کے ماتحت ہوئی تھی۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ مقدس اولا د عطا فرمائی جس کے ذریعہ دنیا میں دین حق اور احمدیت کی ترقی مقدر تھی۔آپ 1865ء میں بمقام دہلی ایک نہایت معز ز سادات خاندان میں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد کا نام حضرت میر ناصر نواب صاحب تھا۔والدہ کا نام حضرت سید بیگم صاحبہ تھا۔1884ء میں آپ کی شادی حضرت مسیح موعود سے ہوئی۔حضرت اماں جان بہت پاکباز اور بزرگ خاتون تھیں۔احمدیت پر کامل