جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 61 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 61

61 اُسے بھی خدا ہی کھڑا کرے گا اور جو لوگ اس کی بیعت کرتے ہیں اُن کا فرض ہوتا ہے کہ ہر کام اور ہر بات میں خلیفہ کی پوری پوری اطاعت کریں۔“ نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت کی اہمیت جماعت احمد یہ پر اچھی طرح واضح ہو گئی اور جماعت کا ایک بڑا حصہ ان لوگوں کے پھیلائے ہوئے فتنہ سے محفوظ ہو گیا۔صرف گنتی کے چند لوگ اُن کے حامی رہ گئے۔حضرت خلیفہ اول نے ان لوگوں کو کئی بار سمجھایا۔نرمی سے بھی اور سختی سے بھی حتی کے ایک بار انہیں دوبارہ بیعت لینے کا بھی حکم دیا۔چونکہ حضور کا خدا داد رعب بھی بہت تھا اس لئے انہوں نے ڈر کے مارے مجبوراً بیعت کر لی۔لیکن اندر ہی اندر سازشوں میں مصروف رہے یہاں تک کہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی وفات ہوئی تو یہ لوگ کھل کر سامنے آگئے اور اعلانیہ خلافت سے منکر ہو کر لاہور چلے گئے اور وہاں پر مولوی محمد علی صاحب ایم اے کی سرکردگی میں جماعت سے علیحدہ ہو کر اپنی الگ انجمن احمد یہ انجمن اشاعت اسلام کے نام سے قائم کر لی۔حضرت خلیفہ اول کی وفات: حضرت خلیفہ اول چند ماہ بیمار رہنے کے بعد 13 / مارچ1914ء کو جمعہ کے دن سوا دو بجے بعد دو پہر قادیان میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 14 / مارچ 1914ء کو حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی نے خلیفہ ثانی منتخب ہو جانے کے بعد آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد ہزاروں احمدیوں نے دین حق کے، قرآن مجید کے، آنحضرت صل اللہ کے اور