جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 60 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 60

60 اس کے لئے انہوں نے بہانہ یہ بنایا کہ حضرت مسیح موعود کے رسالہ الوصیت کی ایک تحریر سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حضور نے اپنا جانشین انجمن کو مقرر کیا ہے نہ کہ خلیفہ کو۔مگر خدا تعالیٰ ان لوگوں کی یہ کوشش خود انہی کے ذریعہ سے ناکام بنا چکا تھا کیونکہ حضرت خلیفہ اول کو خلیفہ منتخب کرتے وقت انہوں نے اپنے دستخطوں سے جو اعلان شائع کیا تھا اس میں صاف یہ لکھا ہوا موجود تھا کہ ہم نے حضرت مسیح موعود کے رسالہ الوصیت کے منشاء کے مطابق حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ منتخب کیا ہے اور یہ کہ ہم حضرت مولوی صاحب کی اسی طرح اطاعت کریں گے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود کی کیا کرتے تھے۔جب ان لوگوں نے دیکھا کہ ہماری یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی تو پھر ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود کے متعلق دبی زبان میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضور نبی نہیں تھے۔تا اس بات کے لئے دلیل بن سکے کہ خلافت کی کوئی ضرورت نہیں اور خلافت چونکہ نبیوں کے بعد ہوتی ہے اس لئے حضور کے بعد خلافت ہو ہی نہیں سکتی ان کی یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر یہ اقرار کر چکے تھے حضرت مسیح موعود نبی ہیں اور حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت مسیح موعود کے خلیفہ اول ہیں۔جب یہ سازش بھی ناکام ہوتی نظر آئی تو انہوں نے یہ کوشش کی کہ کم از کم خلیفہ وقت کے اختیارات کو ہی کم کر دیا جائے۔وہ صرف نمازیں پڑھا چھوڑا کرے باقی سب اختیارات صدر انجمن احمدیہ کے حوالے کر دے۔مگر یہ کوشش بھی ناکام ہوئی۔کیونکہ حضرت خلیفہ اول نے اپنی تقریروں اور خطبوں میں سب سے زیادہ اس امر کو ہی پیش کیا کہ :- وو خلیفہ خدا بناتا ہے میرے بعد بھی جو خلیفہ ہوگا