جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 16
16 آپ کے والد کا نام مرزا غلام مرتضی صاحب، دادا کا نام مرزا عطا محمد صاحب اور پڑدادا کا نام مرز اگل محمد صاحب تھا۔آپ کی والدہ کا نام چراغ بی بی صاحبہ تھا۔آپ ایک نہایت معزز مغل خاندان کی برلاس شاخ سے تعلق رکھتے تھے اس خاندان کا امتیازی لقب مرزا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس خاندان کے تمام افراد کے ناموں کے ساتھ مرزا کا لفظ لکھا جاتا ہے اس خاندان کے ایک بزرگ مرزا ہادی بیگ صاحب سولہویں صدی عیسوی ( دسویں صدی ہجری ) کے آخر میں بابر کے عہد حکومت میں ، اپنے وطن خراسان کو چھوڑ کر قریباً دوسو (200) آدمیوں سمیت ہندوستان میں آ گئے اور دریائے بیاس کے قریب آباد ہو گئے یہاں انہوں نے ایک گاؤں کی بنیاد رکھی جس کا نام اسلام پور رکھا گیا یہ گاؤں بعد میں اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا۔رفتہ رفتہ لوگ صرف قاضی ما جبھی کہنے لگے۔پھر ماجھی کا لفظ بھی اُڑ گیا اور قاضی رہ گیا۔آہستہ آہستہ قاضی سے قادی بن گیا اور پھر قادی سے قادیان“ ہو گیا۔قادیان لاہور سے شمال مشرق کی طرف قریباً ستر میل کے فاصلہ پر ہندوستان کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں واقع ہے یہی وہ مقدس بستی ہے جہاں پر جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود پیدا ہوئے اور جہاں پر آپ نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ گزارا۔اور یہیں پر آپ کا مزار ہے۔حضرت مسیح موعود کا خاندان مغل عہد حکومت میں بہت سے معزز عہدوں پر مامور رہا ہے۔جب مغلیہ حکومت کمزور ہو گئی تو یہ خاندان ایک آزاد حکمران کے طور پر قادیان کے ارد گرد کے قریب ساٹھ میل کے علاقہ پر حکومت کرتا رہا۔سکھوں کے زمانہ میں اس کی حالت بہت کمزور ہوگئی۔بہت سا علاقہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔حتی کہ قریباً سولہ سال تک اس خاندان کو قادیان سے ہجرت کر کے ریاست کپورتھلہ میں پناہ لینی پڑی۔بعد میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں یہ خاندان پھر قادیان واپس آکر