جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 111 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 111

111 شخصیت کے ساتھ وہ ایک بہترین رفیقہ حیات تھیں قدرتی طور پر حضور نے بے حد صدمہ محسوس فرمایا۔تاہم اپنے فرائض کی بجا آوری میں دل جمعی اور خاص طور پر خواتین میں اصلاحی مہمات کے تسلسل کے لئے آپ نے عقد ثانی کا ارادہ فرمایا۔اس سلسلے میں آپ نے چالیس روز تک دعائیں کیں اور جماعت کے بعض بزرگ اصحاب سے بھی سات روز تک استخارہ کرنے کے لئے فرمایا۔آخر ان دعاؤں کے نتیجہ میں جب آپ کو اچھی طرح اطمینان ہو گیا تو 11 اپریل 1982ء کو آپ کی شادی حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ بنت محترم عبدالمجید خان صاحب آف ویرووال کے ساتھ انتہائی سادگی کے ساتھ عمل میں آئی۔حضور کی وفات: ماہ جون 1982ء کے ابتدائی ایام میں جبکہ حضور اسلام آباد میں مقیم تھے حضور کو اچانک دل کے عارضہ کا شدید حملہ ہوا ہر ممکن علاج کیا گیا لیکن خدا کی مشیت غالب آئی اور حضور 9 جون 1982 ء کو 73 برس کی عمر میں اسلام آباد، پاکستان میں انتقال فرما کر محبوب حقیقی سے جاملے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ کا جنازہ اسلام آباد سے ربوہ لایا گیا جہاں پر 10 جون 1982ءکو حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں پاکستان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے ہزار ہا احباب شامل ہوئے۔نماز جنازہ کے بعد آپ کا جسد عنصری مقبرہ بہشتی ربوہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے مزار کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔پیارے بچو! حضرت خلیفہ مسیح الثالث کی اچانک وفات کا المناک سانحہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک بہت بڑا غیر معمولی صدمہ تھا۔مگر جماعت نے دینی تعلیم