تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 31 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 31

جلد اوّل 30 تاریخ احمدیت بھارت کریں، مگر برادرانہ طور پر اور ہمدردانہ طور پر اور مخلصانہ طور پر۔اور جہاں ان میں روح مقابلہ پائی جائے وہاں ان میں تعاون اور ہمدردی کی روح بھی پائی جائے۔اور یہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک حال ہوں۔خدا تعالیٰ انہیں ہر شر سے بچائے اور اپنے فضل سے امن اور صلح اور سمجھوتے کے ذریعہ سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہم۔۔۔۔اس کو اسلام کی روشنی کے پھیلانے کا مرکز بنا سکیں۔اللّهُم 66 امين “۔(16) جب تقسیم ملک اور پاکستان کا اعلان کیا گیا تو قادیان کو پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔اور اسی اعلان کی وجہ سے قادیان کی سرکاری عمارتوں، ڈاکخانہ، پولیس چوکی پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا۔دو دن کے بعد مورخہ 17 / اگست 1947ء کو ریڈ کلف کے فیصلہ میں بٹالہ، گورداسپور ، پٹھانکوٹ کی تحصیلوں کو بھارت میں شامل کر دیا گیا (ریڈ کلف کمیشن کا قیام دونوں ملکوں کی حدود کا تعین کرنے کے لئے کیا گیا تھا چونکہ قادیان تحصیل بٹالہ اور ضلع گورداسپور میں واقع تھا لہذا دوسرے اعلان کے مطابق یہ بھارت کا حصہ بن گیا۔جس دن یہ اعلان ہوا حسب معمول حضرت مصلح موعود مغرب کی نماز کے لئے مسجد مبارک میں تشریف لائے اور نماز مغرب کے بعد مجلس علم و عرفان میں فرمایا:۔ہم تم تو شطرنج پر ایک مہرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔سلسلہ احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبی اور نہ ختم ہونے والی تاریخ کا مالک ہے۔اور اسلام قیامت تک کی تاریخ کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔اگر اس دنیا کے دو پرت فرض کر لئے جائیں تو یوں سمجھنا چاہیئے کہ ایک پرت قبل از اسلام اور احمدیت کا ہے اور ایک پرت اسلام اور احمدیت کا ہے۔گو یا ورق عالم کا ایک صفح قبل از اسلام اور احمدیت کا ہے۔اور دوسرا صفحہ اسلام اور احمدیت کا ہے۔اور اس صفحہ پر ہماری حیثیت زیر اور زبر بلکہ نقطہ کی بھی نہیں کیونکہ کروڑوں کروڑ احمدیوں کے مقابلہ میں چند لاکھ کی کیا حیثیت ہے۔ہم نہیں جانتے کہ آئندہ کیا نتائج نکلنے والے ہیں اور ہم میں سے کون زندہ رہ کر دیکھے گا اور کون مرجائے گا لیکن فتح بہر حال احمدیت کی ہوگی۔پس خدا تعالیٰ کے اس فعل کو اپنے لئے مضر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی فعل ہمارے لئے مضر نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ہماری ترقیات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا اور اللہ تعالیٰ مخالف حالات میں ہماری تائید اور نصرت فرما کر یہ بات واضح کر دے گا کہ وہ ہماری جماعت کیسا تھ ہے۔ممکن ہے خدا تعالیٰ ہمارے ایمانوں کی آزمائش کرنا