تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 30
تاریخ احمدیت بھارت 29 جلد اول دو سال گزر گئے۔آخر 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب کو ہندوستان کی آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔اور اس اعلان کے ساتھ ہی مملکت پاکستان معرض وجود میں آگئی۔چند مہینوں سے ملک اور خاص طور پر متحدہ پنجاب میں جو حالات رونما ہوتے چلے جا رہے تھے ان سے یہ خدشہ تھا کہ عنقریب قتل و غارت کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہو جائے گا۔چنانچہ اپنی اس تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔اس آزادی کے ساتھ ساتھ خونریزی اور ظلم کے آثار بھی نظر آتے ہیں۔خصوصاً ان علاقوں میں جن کے ہم باشندے ہیں۔وسطی پنجاب اس وقت لڑائی جھگڑے اور فساد کا مرکز بنا ہوا ہے۔ان فسادات کے متعلق روزانہ جو خبریں آرہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں آدمی روزانہ موت کے گھاٹ اُتارے جا رہے ہیں۔اور ایک بڑی جنگ میں جتنے آدمی روزانہ مارے جاتے تھے اتنے آج کل اس چھوٹے سے علاقہ میں قتل ہورہے ہیں۔اور ایک بھائی دوسرے بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔پس ان حالات کے ماتحت جیسے عید کے دن اس عورت کے دل میں خوشی نہیں ہو سکتی جس کے اکلوتے بچے کی لاش اس کے گھر میں پڑی ہوئی ہے، اور جیسے کسی قومی فتح کے دن ان لوگوں کے دل فتح کی خوشی میں شامل نہیں ہو سکتے جن کی نسل فتح سے پیشتر اس لڑائی میں ماری گئی۔اسی طرح آج ہندوستان کا سمجھ دار طبقہ با وجود خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے اپنے دل میں پوری طرح خوش نہیں ہوسکتا۔“ اسی اظہار تاسف کے بعد حضور نے فرمایا:۔وو یہ دو حکومتیں جو آج قائم ہوئی ہیں ہمیں ان دونوں سے ہی تعلق ہے کیونکہ مذہبی جماعتیں کسی ایک ملک یا حکومت سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ہماری جماعت کے افراد پاکستان میں بھی ہیں اور ہماری جماعت کے افراد انڈیا میں بھی ہیں۔۔۔۔گو ہماری جماعت کے افراد پہلے بھی غیر ملکوں میں رہتے تھے مگر وہ تو پہلے ہی ہم سے الگ رہتے تھے۔مگر اب جو ہمارے بھائی ہم سے الگ ہورہے ہیں وہ ایک عرصہ سے اکٹھے رہتے آرہے تھے۔اب ہم ایک دوسرے سے اس طرح ملا کریں گے جیسے غیر ملکی لوگ آپس میں ملتے ہیں۔پس ہم اس آزادی اور جدائی کے موقعہ پر خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ دونوں ملکوں ہی کو ترقی بخشے۔ان دونوں ملکوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق بخشے اور ان دونوں ملکوں کے لوگوں کے دلوں میں محبت اور پیار کی روح بھر دے۔یہ دونوں ملک ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش