تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 16
تاریخ احمدیت بھارت 15 جلد اول باب دوم قادیان سے ہجرت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات و کشوف اور حضرت اصلح الموعود کا انتباہ الہام داغ ہجرت مورخہ 18 ستمبر 1894ء کواللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاما فر مایا۔داغ ہجرت (1) نیز ہجرت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مدت ہوئی کہ کوئی پچیس چھبیس سال کا عرصہ گزرا ہے ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے لیکن بعض رؤیا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوئے اور بعض اولا د یا کسی متبع کے ذریعہ پورے ہوئے۔مثلاً آنحضرت صلی ایتم کو قیصر و کسری کی کنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمر کے زمانہ میں فتح ہوئے“۔(2) پھر ایک اور الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ القُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ (3) یعنی وہ قادر خدا جس نے تیرے پر قرآن فرض کیا پھر تجھے واپس لائے گا۔الغرض اسی طرح کے اور بھی الہامات و کشوف جماعت کے برگزیدہ احباب کے لئے باعث فکر بنے رہتے تھے۔اگر چہ بظاہر حالات سے اس کا امکان نظر نہیں آتا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ﷺ نے تقریبا ہجرت سے نو سال قبل 26 اپریل 1938ء کو حضرت مصلح موعود خلیفہ مسیح الثانی کی خدمت اقدس میں درج ذیل مکتوب گرامی تحریر فرمایا :۔