تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 355
جلد اوّل 324 تاریخ احمدیت بھارت 1948ء کومستقل طور پر قادیان تشریف لے آئے تھے۔ناقل )۔آپ نے درویشان کرام کے حالات و کوائف مورخہ 31 مئی 1948ء کو حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر فرمائے۔قادیان پہنچے ہیں روز ہوئے ہیں۔پہلا ہفتہ تو قریباً آٹھ ما ہی جدائی کی حسرت وحرمان کی تلافی کی کوشش میں گزر گیا۔اور ماحول کی طرف نظر اٹھانے کی بھی فرصت نہ ملی۔دوسرے ہفتہ کچھ حواس درست ہوئے تو دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں کہ ایک نئی زمین اور نئے آسمان کے آثار نمایاں ہیں۔ایک تغیر ہے عظیم ، اور ایک تبدیلی ہے پاک، جو یہاں کے ہر درویش میں نظر آتی ہے۔چہرے ان کے چمکتے۔آنکھیں ان کی روشن ، حو صلے ان کے بلند پائے۔نمازوں میں حاضری سو فیصدی۔نمازیں نہ صرف رسمی بلکہ خشوع خضوع سے پر دیکھنے میں آئیں۔رقت و سوز یکسوئی و ابتہال محسوس ہوا۔مسجد مبارک دیکھی تو پر۔مسجد اقصیٰ دیکھی تو بارونق ، مقبرہ بہشتی کی نئی مسجد جس کی چھت آسمان اور فرش زمین ہے۔وہاں گیا تو ذاکرین و عابدین سے بھر پور پائی۔ناصر آباد کی مسجد ہے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے آباد ہے۔اذان و ا قامت برابر پنج وقتہ جاری۔۔۔۔۔مساجد کی یہ آبادی اور رونق دیکھ کر الہی بشارت کی یاد سے دل سرور سے بھر گیا۔اور امید کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔نہ صرف یہی کہ فرائض کی پابندی ہے۔بلکہ نوافل میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی کثرت ، ہجوم اور انہماک پایا۔مقامات مقدسہ کے کونہ کونہ کے علم پانے کا عموماً ان نو جوانوں کو حریص دیکھا۔اور پھر عامل بھی حتی کہ حالت یہ ہے کہ اس تین ہفتہ کے عرصہ میں میں نے بارہا کوشش کی کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے بیت الدعا میں کوئی لمحہ تنہائی کا مجھے بھی مل سکے۔مگر ابھی تک یہ آزرو پوری نہیں ہوئی۔جب بھی گیا نہ صرف یہ کہ وہ خالی نہ تھا بلکہ تین تین چار چار نو جوانوں کو وہاں کھڑے اور رکوع وسجود میں روتے اور گڑ گڑاتے پایا۔اسی پر بس نہیں بلکہ متصلہ دالان اور بیت الفکر تک کو اکثر بھر پور اور معمور پایا۔تہجد کی نماز چاروں مساجد میں برابر با قاعدگی اور شرائط کے ساتھ باجماعت ادا ہوتی ہے۔اور بعض درویش اپنی جگہ پر بعض اپنی ڈیوٹی کے مقام پر ادا کرتے ہیں۔کھڑے کھڑے چلتے پھرتے بھی ان کی زبانیں ذکر الہی سے نرم اور تر ہوتی دیکھی اور سنی جاتی ہیں۔اور میں یہ عرض کرنے کی جرات کر سکتا ہوں کہ نمازوں میں حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے سو فیصدی ہے۔درس و تدریس اور تعلیم وتعلم کا سلسلہ