تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 317 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 317

جلد اوّل 286 تاریخ احمدیت بھارت روانہ ہوئے تو پیچھے سے گولی مار کر انہیں بھی شہید کر دیا گیا۔اناللہ وانا الیه راجعون۔پسماندگان۔حضرت چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولا د تین بیٹوں اور تین بیٹیوں پر مشتمل ہے۔ان کے سب سے بڑے بیٹے مکرم محمد اسمعیل صاحب کو تو 1947ء میں ہی شہید کر دیا گیا تھا۔باقی دونوں بیٹے مکرم احمد علی صاحب اور مکرم فضل الہی صاحب بھی اب وفات پاچکے ہیں جبکہ تینوں بیٹیاں خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔بڑی بیٹی کا نام غلام بی بی ہے، دوسری شریفاں بی بی اور تیسری ناصرہ بی بی صاحبہ۔حضرت چوہدری صاحب کی اولاد پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے اکثر بڑے اخلاص سے اپنے اپنے رنگ میں جماعت کی خدمت کی تو فیق پارہے ہیں۔مکرم محمد منیر صاحب شامی شہید قادیان مکرم محمد منیر صاحب شامی۔آپ مکرم ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب ابوحنیفی کے ہاں تنزانیہ میں 1922ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔1947ء کے دوران آپ تعلیم الاسلام کالج قادیان میں بی اے کے طالب علم تھے۔آپ واقف زندگی تھے اور عربوں سے اپنی ہمدردی کی وجہ سے آپ کو لوگوں نے شامی مشہور کر دیا حالانکہ ملک شام سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن عربوں سے محبت تھی۔اوصاف حمیدہ۔آپ خاموش طبع اور محنتی طالبعلم تھے۔انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا۔جماعت سے انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔امام وقت کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے تھے۔مطالعہ کا بہت شوق تھا۔مکرم چوہدری فضل داد صاحب مرحوم لائبریرین تعلیم الاسلام کالج قادیان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے لائبریری کی تقریبا تمام کتب پڑھ لی تھیں۔واقعہ شہادت۔آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق اپنے گھر دار الرحمت قادیان بر مکان خان ارجمند خان صاحب مرحوم محلہ کی حفاظت کے سلسلہ میں مقیم تھے۔گھر میں دونالی بندوق تھی۔ادھر ادھر سے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے ہونے والے حملوں کے دوران خوب مقابلہ کرتے رہے۔ایک رات۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے ان کے گھر کی دیوار پھاند کر اندھیرے میں آپ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔جب خدام کو حکم ہوا کہ وہ ہوٹل میں جمع ہو جائیں تو آپ کو نہ پا کر جب پتہ کیا گیا تو آپ کو گھر کے صحن میں چت پڑا پایا گیا۔آپ کی انتڑیاں باہر نکل چکی تھیں اور آپ شہید ہو