تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 313
جلد اول مکرم عبدالمجید خان صاحب شہید 282 تاریخ احمدیت بھارت اب ایک شہادت عبدالمجید خان صاحب کی ہے جن کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب مرحوم کے یہ ماموں تھے۔آپ مسجد اقصیٰ قادیان میں قرآن کریم کی کلاس لیا کرتے تھے۔مرحوم تقسیم ملک کے بعد دوبارہ قادیان گئے۔اس وقت آپ پاکستان کی فوج کے ملازم تھے۔انہوں نے چاہا کہ میں اپنے والدین کو جا کر لے آؤں۔بہت دلیر تھے۔لوگوں نے منع بھی کیا مگر وردی پہن کر عازم سفر ہو گئے۔آپ کے جانے سے تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اور اس نے کہا وہاں پر ایک نوجوان کا سر پڑا ہوا ہے۔جب تحقیق کی گئی تو وہ عبد المجید خان صاحب کا سر تھا جو کھارا سے نکلتے ہی شہید کر دیئے گئے تھے۔مکرم بدر دین صاحب شهید گلاب بی بی صاحبہ اور محمد اسماعیل صاحب شہید ایک شہادت مکرم بدر دین صاحب، ان کی اہلیہ گلاب بی بی صاحبہ اور ان کے بیٹے محمد اسمعیل کی ہے۔مکرم بدر دین صاحب قادیان کے قریب گاؤں سیکھواں کے رہنے والے تھے۔پیدائشی احمدی تھے۔ہر جمعہ با قاعدگی سے قادیان پیدل جا کر پڑھتے تھے۔آپ کی اہلیہ مکرمہ گلاب بی بی صاحبہ بھی پیدائشی احمدی تھیں۔آپ احمدیت کی خاطر ہر مشکل کو برداشت کرنے والی تھیں۔آپ کے بیٹے محمد اسمعیل صاحب نے والدین کی تربیت سے صالح ہونے کا مقام حاصل کیا تھا۔بہت نیک انسان تھے۔یہ بھی ہر جمعہ قادیان جایا کرتے تھے اور حفاظت مرکز کی ڈیوٹی بڑے شوق سے کرتے تھے۔واقعہ شہادت تقسیم ملک کے اعلان کے بعد گاؤں کے اکثر احمدی قادیان منتقل ہو چکے تھے لیکن ابھی گاؤں کلیۃ نہیں چھوڑا تھا اچانک۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے گاؤں پر ہلہ بول دیا اور مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ کر لیا اور ان کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔مکرم ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد بدر دین صاحب، والدہ گلاب بی بی صاحبہ اور بھائی اسمعیل صاحب گاؤں سے ایک قافلے کے ساتھ قادیان آرہے تھے کہ قافلے پر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے حملہ کر دیا۔میں خود اس قافلے میں شامل تھا۔وہاں پر میرے والد، والدہ اور بھائی اسمعیل کو شہید کر دیا گیا۔حملہ کے وقت مجھے میرے والد صاحب نے اشارہ کیا کہ بھاگ جاؤ یعنی اپنے نکلنے کی وجہ یہ بیان کر رہے ہیں کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں گیا تھا، والد کی اطاعت میں گیا ہوں۔کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کا بچنا محال ہے۔پس غالباً اپنی نسل کو جاری