تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 252 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 252

تاریخ احمدیت بھارت 223 جلد اول ان کے مکانوں کو تباہ کیا۔چھت کی کڑیاں شہتیر اور دروازے اکھاڑ کر لے گئے۔اسلام آباد جو قادیان کا ایک محلہ ہے پہلے ہی خالی ہو چکا تھا اور وہاں سکھ آباد ہو گئے تھے۔19 ستمبر کو تکیہ کمال الدین پر قبضہ کیا گیا اور اس دن محلہ دار الساعت ( یعنی دار السعته - ناقل) پر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے حملہ کر دیا۔اہل قادیان نے ملٹری کے سپاہیوں کو اطلاع دی جو والی بال کھیل رہے تھے مگر انہوں نے جواب دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔پھر چند نہتے نوجوان آگے بڑھے اور۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو بھگا دیا۔14 ستمبر کو تحصیلدار نے چند سکھوں کو منگل نزد قادیان میں بسانے کے لئے بھیجا۔حالانکہ منگل میں مسلمان آباد تھے۔19 ستمبر کو تھانیدار نے پولیس کی مدد سے منگل کے مسلمانوں کو زبردستی وہاں سے نکال دیا اور ان کا سامان لوٹ لیا۔20 ستمبر کو محلہ قادر آباد کے مسلمانوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ان کی مشکیں باندھیں فائر کئے۔لاٹھیوں سے زدوکوب کیا اور تھانیدار۔۔۔۔نے مسلمانوں کو گالیاں دیں کہ ”بد معاشو! یہاں سے نکل جاؤ“ 20 ستمبر کو جو کنوائے قادیان سے بٹالہ کی طرف جارہی تھی۔پنجگرائیاں میں نہر کے پل پر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے اس پر حملہ کر دیا۔ملٹری نے فائرنگ کی۔حملہ آور بھاگ گئے۔قادیان کی۔۔۔۔( غیر مسلم ) ملٹری نے یہ غلط پراپیگنڈہ کر دیا کہ مسلم ملٹری نے جان بوجھ کر شرارت کی اور جاتے جاتے سات۔۔۔۔(غیر مسلم ) مار دیئے ہیں۔20-19 ستمبر کی درمیانی رات کو۔۔۔۔(غیر مسلم ) کیپٹن نے قادیان میں ڈھنڈورا پٹوایا کہ کل یہاں سے پیدل قافلہ روانہ ہوگا اور ہم تمام پناہ گزینوں کو قادیان کی حد سے پار کر دیں گے۔جو قافلہ کے ساتھ نہیں جائے گا اسے شوٹ کر دیا جائے گا۔مگر 20 ستمبر کو قافلہ روانہ نہ ہوا۔کیونکہ مسلمان۔۔۔۔(غیر مسلم ) ملٹری کے ساتھ روانہ ہونے پر تیار نہ تھے اور پھر اس قافلے کولوٹنے اور تباہ کرنے کے لئے منظم سازش کے ماتحت۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) دو دن تک نہر کی پڑی اور کھیتوں میں چھپے ہوئے تھے اور وہ۔۔۔۔۔(غیر مسلم ) تھانیدار کو پیغام بھیج رہے تھے کہ قافلہ جلد روا نہ کرو۔21 ستمبر کو قادیان میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔اس سے قبل پولیس نے بعض لڑکوں کے پاس سے قلم تراش اور غلیلیں پکڑ لی تھیں اور۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) قادیان کے بازاروں میں لمبے لمبے برچھے،