تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 251
جلد اوّل 222 تاریخ احمدیت بھارت بازار میں لائن بنا کر جلوس بھی نکالا۔جب جلوس نکالا گیا تو اس وقت۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) برچھیوں ، تلواروں اور دیسی ساخت کی بندوقوں سے مسلح تھے۔اور ملٹری نے انہیں منتشر کرنے کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔جب پولیس کو کہا گیا کہ مسلم آبادی کی گلیوں میں۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کالیوں مسلح ہو کر پھرنے کا مطلب کیا ہے تو تھانیدار نے جواب دیا کہ ہم شریف آدمیوں کو چلنے پھرنے سے نہیں روک سکتے۔ایک ہوائی جہاز قادیان پر دودن پرواز کرنے آیا۔ملٹری نے اس پر فائرنگ کی مگر ہوائی جہاز بچ کر نکل گیا۔۔۔۔۔پولیس نے چوہدری فتح محمد سیال ایم۔ایل۔اے اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ ناظر امور عامہ قادیان کی گرفتاری کے علاوہ ان کے مکانوں کی تلاشی لی اور لائسنس والا اسلحہ بھی قابو کر لیا۔پھر ملٹری نے تعلیم الاسلام کالج کا محاصرہ کر لیا اور کہا کہ ہم تلاشی لیں گے مگر محکمہ حفاظت قادیان کے پہرہ داروں نے تلاشی دینے سے انکار کر دیا۔ملٹری کے۔۔۔(غیر مسلم ) کیپٹن نے نہایت مغرورانہ انداز میں کہا کہ ہم شوٹ کر دیں گے۔پہرہ داروں نے جواب دیا کہ ہم گولیوں سے ڈرنے والے نہیں کافی ردو قدح کے بعد ملٹری واپس چلی گئی۔18 ستمبر کو نگل خورد کے چند آدمی مویشی چرا رہے تھے کہ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے حملہ کر دیا۔اور مویشی بھگا کر لے گئے۔پولیس اور ملٹری کو رپورٹ کی گئی مگر وہ سپاہی ہنس کر چپ ہو گئے۔قادیان میں جو پناہ گزین جمع تھے ان کو قافلہ کی صورت میں روانہ کرنے کا خیال تھا۔18 ستمبر کو۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا ایک وفد تھانیدار سے ملا اور اس نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو ایک پائی تک ساتھ نہیں لے جانے دیں گے۔18 ستمبر کو ملٹری کیپٹین نے اعلان کیا جو شخص قافلے کے ساتھ نہیں جائیں گے ان کی حفاظت کے ہم ذمہ دار نہیں۔تھانیدار نے جیپ کار میں سوار ہو کر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے گاؤں کا دورہ کیا۔اور انہیں بتایا کہ قافلہ آنے والا ہے تیار ہو جاؤ ایک بھی شخص بیچ کر نہ جائے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) گھروں سے نکل کر کمادوں میں بیٹھ گئے۔18 ستمبر کوملٹری نے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو اسلحہ دے کر کھارا کے مسلمانوں پر حملہ کرایا اور جب مسلمان قادیان کی طرف چلے تو کوئی چیز ساتھ نہیں لینے دی حتیٰ کہ آٹا وغیرہ بھی چھین لیا۔