تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 167
تاریخ احمدیت بھارت 151 جلد اوّل ہی سے واپس آگیا کیونکہ وہ سڑوعہ پہنچ نہیں سکا تھا۔ٹرک والوں نے بتایا کہ راستہ میں روڈ بلاک ہے ہمیں سروعہ میں جانے نہیں دیتے یہ ملٹری والے روڈ مزارعا الگڑ مزارعہ والی سڑک سے سڑ وعہ جانا چاہتے تھے لیکن روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے واپس آگئے۔اس کے بعد میں نے حوالدار رحمت علی اور ڈرائیور سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ دوسرے راستہ یعنی سمندڑہ والے راستے سے آپ کے ساتھ چلتا ہوں لیکن حوالدار اور ڈرائیور نے صا ف صاف جواب دے دیا کہ ایسے راستہ پر جہاں جان کا خطرہ ہو ہم نہیں جاسکتے۔پھر میں نے کہا کہ آپ بھی مسلمان ہیں۔اور ہم سب مسلمان ہیں اگر آپ کے گاؤں پر حملہ ہو جا تا اور میں ٹرک لے جاتا تو کبھی بھی خالی واپس نہ آتا۔لہذا میں نے ان کی کافی منت سماجت کی اور ان کو سروعہ جانے کے لئے تیار کر لیا اور میں نے رانا محمد ارشد ولد چوہدری عزت علی خاں کو بھی اپنے ساتھ ٹرک میں بٹھالیا۔باقی جو دوسرے دوست میرےساتھ گڑھ شنکر گئے تھے وہ گڑھ شنکر میں ہی رہ گئے اس طرح میرے اور محمد ارشد کے علاوہ ملٹری کے ایک حوالدار ایک ڈرائیور اور تین سپاہی ٹرک میں بیٹھ گئے اور ہم نے سمندرہ کے راستے سے سڑوعہ کی طرف چلنا شروع کر دیا جب ہم نے دیکھا کہ اس طرف کی روڈ بھی بلاک تھی تو ہم نے اپنے آپ کو ہند وملٹری ظاہر کر کے جے ہند کا نعرہ لگانا شروع کر دیا۔اس طرح جو روڈ بلاک تھی اس کا راستہ صاف ہوتا گیا اور کئی جگہ سے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی کر پانیں بھی حاصل کر لیں اور ٹرک میں رکھ لیں اور تقریباً شام 5 بجے سروعہ کے باہر دوفر لانک کے فاصلہ پر چمار لی والی چاہ کے اوپر ٹھہر گئے۔ہر طرف شر پسند عناصر کے جتھے نظر آرہے تھے میں (یعنی ماسٹر عبدالمنان ) نے خود برین گن لے کر دونوں طرف شر پسند عناصر کے جتھہ پر فائرنگ شروع کر دی۔پھر معلوم نہیں کتنے شر پسند مارے گئے۔فائرنگ کی آواز سن کر گاؤں سے صو بیدار عبدالمجید ، حوالدار چوہدری محمد ابراہیم خان صاحب ولد مولا بخش صاحب، چوہدری عبد الحکیم ولد بشارت علی خاں اور سب سابقہ فوجی وغیرہ جو کہ دروں کی حفاظت کر رہے تھے ، ہمارے ٹرک کے پاس پہنچ گئے ہمیں دیکھ کر انہیں بڑی خوشی ہوئی کہ مدد کے لئے مسلمان ملٹری آگئی ہے۔ان کے بتانے پر پتہ چلا کہ حملہ 2 بجے سے لگا تار جاری ہے۔جس میں اس قدر ہمارے آدمی مارے گئے اور پوچھا کہ دشمن گاؤں میں تو نہیں آیا انہوں نے جواب دیا کہ ابھی کوئی نہیں ہے۔لیکن گاؤں والوں نے بتایا کہ ہمارا اسلحہ ختم ہو گیا ہے اس لئے ہم نے کہا کہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں اور ٹرک سے کر پانیں لے لو اور ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ تا کہ گاؤں کے اردگرد جو شر پسند عناصر جتھے بیٹھے ہیں ان کو قتل کر دیں۔لہذا اس طرح ہم نے ایک درہ سے دوسرے درہ تک جا کر تمام گاؤں کا چکر لگایا اور شر پسند