تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 166 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 166

جلد اوّل 150 تاریخ احمدیت بھارت خاکسار 20 یوم کی رخصت پر رمضان المبارک ماہ اگست 1947 ء اپنے گاؤں سڑوعہ آیا ہوا تھا۔اس دوران ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے اور اردگرد کے مسلمان سر وعہ آکر جمع ہو گئے تھے اور ان کا کیمپ لگ گیا تھا اور ناکہ بندی ہو گئی تھی۔یعنی ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانا مشکل ہو گیا تھا۔تحصیل گڑھ شنکر شہر میں گورنمنٹ نے ہندو ملٹری کا کیمپ لگا دیا تھا۔ملٹری اردگرد کے گاؤں میں چکر لگاتی رہتی تھی۔مجھے گاؤں والوں نے کہا کہ آپ کی راجپوت رجمنٹ نمبر 2/7 جالندھر میں ہے۔آپ وہاں جا کر اپنے گاؤں کی حفاظت کا بندوبست کریں۔لہذا میرے ساتھ رانا محمد منصف خان صاحب ولد چوہدری علی گوہر خان صاحب را جپوت بھی گڑھ شنکر چلنے کو تیار ہو گئے۔ان کے علاوہ را نامحمد ارشد خان صاحب ولد چوہدری عزت علی خان صاحب را جپوت اور میجر محمد اجمل خان صاحب ولد چوہدری رحمت خان صاحب را جپوت دامادصو بیدار را نا عبدالمجید خان صاحب سڑوعہ سے گڑھ شنکر گھوڑوں پر گئے تھے۔راستہ میں رات کو موضع پنام میں ٹھہرے۔رات کو جب پنام والوں نے شناخت پوچھی تو رانا محمد ارشد خان صاحب نے کہا کہ ہم سٹروعہ سے آئے ہیں ہمارا گھوڑا جو مشہور گھوڑا تھا اور سارے علاقے میں مشہور تھا جس کو پنام والے بھی شناخت کرتے تھے۔ہم روشنی میں کھڑے ہو گئے تو پنام والوں نے وہ گھوڑا پہچان لیا، اس طرح پنام والوں نے ہمیں رات گزارنے کی اجازت دے دی۔اس کے بعد ہم گڑھ شنکر چلے گئے۔میں اور رانا محمد ارشد خان صاحب تو واپس ملٹری کے ساتھ گاؤں سٹروعہ آگئے جبکہ میجر محمد اجمل صاحب اپنی رجمنٹ میں چلے گئے تا کہ وہاں کے کرنل صاحب سے سروعہ کے لئے مدد مانگی جائے۔بہر حال ماسٹر عبد المنان صاحب کا بیان ہے کہ مؤرخہ 30 اگست 1947ء کو حملہ کے دن ہندو ملٹری کی فوجی گاڑی میں بیٹھ کر گڑھ شنکر کے فوجی کیمپ کے آفیسر سے ملاقات کی تاکہ وہ مجھے میری اپنی رجمنٹ میں جو جالندھر میں تھی پہنچادیں۔لیکن وہ بہانہ سازی سے کام لے کر مجھے ٹالتا رہا حتی کہ شام کے 3 بج گئے۔اس دوران ہم گڑھ شکر شہر میں لاری اڈہ پر کچھ کھانے پینے کے لئے گئے تو وہاں پر میری رجمنٹ کی ایک گاڑی جس میں ایک لانس نائیک دو سپاہی بمعہ ڈرائیور موجود تھے وہ مجھے مل گئے۔وہاں پر پتہ چل گیا کہ سڑوعہ پر حملہ ہو گیا ہے انہوں نے مجھے کہا کہ ہمیں رجمنٹ کرنل نے حکم دیا ہے کہ عبدالمنان کے بیوی بچوں کو سٹروعہ سے ساتھ لے آئیں۔اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک 30 ٹن ٹرک اور اس میں ایک حوالدار رحمت علی اور دو سپاہی اور ایک ڈرائیور آپ کے گاؤں آپ کے بچوں کو لینے چلا گیا ہے۔10/15 منٹ کے بعد وہ خالی ٹرک راستے