تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 145 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 145

تاریخ احمدیت بھارت 129 جلداول تو۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو ہزاروں کی تعداد میں جمع کر کے قادیان پر دھکیل دیا اور ان کی امداد کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی۔حتی کہ بہت سے بیگناہوں کو گولیوں سے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔یہ نہتے اور بے بس احمدیوں پر حملہ اور نہایت شرمناک حملہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر پولیس اور فوج۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی پشت پناہ اور مددگار بن کر اس حملہ میں شریک نہ ہوتی تو۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو قطعاً جرات نہ ہوتی کہ احمدیوں کی طرف منہ بھی کر سکتے۔اور اگر کرتے تو دنیا دیکھتی کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔اب فوج اور پولیس کے جبر و تشدد کے ذریعہ قادیان کو خالی کرا کر یہ کہنا کہ احمدی۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کے خوف سے اپنے گھروں کو خود خالی کر گئے ، حقیقت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش اور سیاہی کے ان دھبوں کو مٹانے کی نا کام سعی ہے جو ان فوجیوں اور پولیس والوں کے ہاتھوں پر لگ چکے ہیں اور جو قیامت تک مٹائے بھی نہ مٹیں گے۔(32) (10)۔غلاظت اور عفونت کی بھر مار ملٹری اور پولیس نے انتہائی تشدد اور ظلم سے کام لے کر اور گولیوں سے بہت سے بیگناہوں کی جانیں ضائع کر کے قادیان کے مختلف محلوں کے ہزاروں مردوں اور عورتوں اور بچوں کو بورڈنگ کی عمارت اور اس سے ملحقہ جانب غرب کے گرے پڑے احاطوں میں جب بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا تو ساتھ ہی حکم دے دیا کہ کوئی ادھر اُدھر حرکت نہ کرنے پائے ورنہ گولی سے اڑا دیا جائے گا۔اور رات بھر گولیاں چلا چلا کر بتا دیا کہ ملٹری اور پولیس اپنے اس حکم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تیار کھڑی ہے۔بورڈنگ کے قریب کے میدانوں اور عمارتوں میں اردگرد کے دیہات کے ہزار ہا پناہ گزین بہت دنوں سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر وقت گزار رہے تھے۔اور کرفیو کی پابندیوں اور پولیس و ملٹری کے مظالم کی وجہ سے وہ چونکہ آس پاس ہی رفع حاجت کے لئے مجبور تھے ، اس لئے بورڈنگ کے قریب قریب کا حصہ غلاظت اور عفونت کی وجہ سے پہلے ہی سنڈ اس بن چکا تھا، اور ان رستوں سے گزرنا محال تھا۔لیکن ملٹری اور پولیس کی شکل میں ظلم وستم کی آندھی ہزاروں مقامی مردوں عورتوں اور بچوں کو جب ان کے آباد گھروں سے اڑا کر باہر لے آئی تو انہیں اسی سنڈ اس میں رات گزارنی پڑی ، اور صبح اٹھ کر دیکھا کہ بورڈنگ ہاؤس کے صحن کا وہ حصہ جو گیلا ہو