تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 107 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 107

تاریخ احمدیت بھارت 91 جلد اول نہیں۔مگر کچھ نہیں ملا۔غرض یہ تلاش قریباً 11 بجے تک ہوتی رہی اور حضرت اماں جان اور ام ناصر احمد صاحب کے مکان کے علاوہ پولیس اور ملٹری ہر جگہ پہنچی۔ہمارے آدمی مرزا عبد الحق صاحب اور مولوی عبد الرحمن جٹ صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب اور محمد عبد اللہ خان صاحب سب انسپکٹر اور ملک غلام فرید صاحب اور بعض بچے ساتھ تھے۔فوجی کپتان اور۔۔۔سردار ہزارہ سنگھ بھی تلاشی میں ساتھ تھے گوسارا وقت ساتھ نہیں رہے۔فوجی صو بیدار عموماً ہمدرد رہا۔اور اس قسم کے ریمارکس کئے کہ بات کچھ نہیں یونہی شرفاء کو تنگ کرنے والی بات ہے۔تلاشی کے وقت پولیس نے لالہ ہری رام کو بلا کر ساتھ رکھا تھا اور اس کا رویہ بظاہر اچھا رہا بلکہ بعد میں مجھے پیغام بھیجا کہ مجھے پولیس مجبور کر کے اور مار کر ساتھ لائی۔الغرض چار گھنٹے تک یہ ہنگامہ رہا پولیس کے سپاہیوں میں سے بھی بعض کا رویہ اچھا تھا اور بعض کا خراب۔میں اور میاں ناصر احمد اور مرزا عزیز احمد صاحب اور بعض دوسرے بچے اس وقت مصلحتا حضرت اماں جان کے مکان میں رہے اور پولیس اور ملٹری ادھر اُدھر جاتے ہمیں دیکھتی رہی۔مگر اس طرف نہیں آئی۔چونکہ بعد میں حضور کا لائیسنس پہنچ گیا تھا اس لئے مرزا عبدالحق صاحب کے ہاتھ یہ لائیسنس اور میاں محمد احمد صاحب والا لائیسنس پولیس اسٹیشن میں بھجوا دیئے گئے تا کہ مقابلہ کر کے تسلی کر لیں۔صاحبزادہ عبد الحمید والا لائیسنس پہلے سے دے دیا گیا تھا مگر ابھی تک کوئی ہتھیار واپس نہیں ملا۔اور آئندہ کا علم نہیں۔یہ ہتھیار ملٹری کیمپ میں ہیں۔کچھ عرصہ بعد ایک ذریعہ سے جو بظاہر پختہ تھا اطلاع ملی کہ میری گرفتاری کے احکام جاری ہو چکے ہیں۔مگر یہ معلوم نہیں ہوا کہ الزام کیا رکھا گیا ہے۔بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید صاحبزادہ عبدالحمید کے ریوالور کے تعلق میں کوئی بات ہو یا SAFETY ORDINANCE کے ماتحت کوئی حکم ہو یا کوئی اور بات بنالی گئی ہو اور ساتھ ہی اطلاع ملی کہ بٹالہ کا D۔S۔P ایک گارد کے ساتھ قادیان پہنچ رہا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی مقامی پولیس نے کہلا بھیجا کہ D۔S۔P چار بجے قادیان پہنچ رہے ہیں۔جماعت کے نمائندے پولیس اسٹیشن میں آکر ملیں۔چنانچہ مرزا عبد الحق صاحب ، راجہ علی محمد صاحب، سید محمود اللہ شاہ صاحب ، مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ اور ملک غلام فرید صاحب پولیس اسٹیشن میں کافی عرصہ انتظار کرتے رہے اور اس عرصہ میں بٹالہ سے پولیس کی ایک موٹر بھی آئی مگر وہ سیدھی ملٹری کیمپ میں چلی گئی۔معلوم نہیں اس میں کون تھا۔البتہ اس میں کچھ ایڈیشنل پولیس تھی۔اس کے بعد اب تک کوئی مزید کا روائی نہیں ہوئی۔گو میں نے مرزا عزیز احمد صاحب کو امارت کا چارج سمجھا دیا تھا اور بچوں کی تسلی کے لئے بھی