تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 82
جلد اوّل 66 تاریخ احمدیت بھارت بارش کی وجہ سے سوار نہ کرایا جا سکا۔دوسری دفعہ بھی ٹکٹ رات کے بارہ بجے کے بعد پہنچا۔جب چند ٹرک پہنچتے تو ان کی واپسی کے انتظامات شروع کر دیئے جاتے۔اور روز بروز نازک سے نازک تر ہوتے جانے والے حالات کے پیش نظر اس بات کی انتہائی کوشش کی جاتی کہ زیادہ سے زیادہ عورتوں اور بچوں کو بھیجا جا سکے۔اس وجہ سے کم از کم اور نہایت ضروری سامان عام طور پر پہننے کے کچھ کپڑے اور ایک آدھ بستر لے جانے کی تاکید کی جاتی۔چونکہ اردگرد کے دیہات کے بے شمار پناہ گزین بھی جمع تھے۔اور وہ ٹرکوں میں سوار ہونے کے لئے بے تحاشہ یورش کر دیتے تھے۔اس لئے جن کو ٹکٹ دیئے جاتے ان کا سوار ہونا بہت مشکل ہو جاتا اور انتظامات میں بہت گڑ بڑ پیدا ہوجاتی۔اس کے علاوہ مسلح ملٹری کی دخل اندازی مشکلات کو انتہا تک پہنچا دیتی۔مگر باوجود اس کے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے صاحبزادگان ہر قسم کی مشکلات پر غالب آنے اور خواتین کو سوار کرانے کے لئے بذات خود نہایت تندہی سے مصروف ہوتے۔اس طرح یہ نہایت مشکل کام سرانجام پاسکتا تھا۔لیکن جہاں دوسرے پہلوؤں سے ملٹری اور پولیس کا ظلم و تشدد بڑھتا گیا۔وہاں خواتین کی روانگی میں بھی ملٹری نے انتہائی مشکلات پیدا کرنی شروع کر دیں اور بات بات میں مداخلت کرنے اور جبر و ستم کا مظاہرہ کرنے پر تل گئی۔ایک دن جبکہ انتظام کے ماتحت ہمارے اپنے دس بارہ ٹرک احمدی عورتوں کو لے جانے کے لئے آئے ہوئے تھے۔عورتیں اور بچے ان میں سوار ہو چکے تھے کہ ملٹری نے حکم دے دیا کہ آدھے ٹرک فوراً خالی کر دیئے جائیں۔ان میں ہم اپنی مرضی سے لوگوں کو سوار کرائیں گے۔اس پر جب صدائے احتجاج بلند کی گئی تو ہندو ملٹری نے سب لڑکوں پر قبضہ کر کے نہایت بیدردی اور سفا کی سے پردہ دار عورتوں اور چھوٹے بچوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر پھینک دیا۔اور اس طرح ٹرک خالی کر کے لے گئی۔ملٹری کے اس طریق عمل سے نہ صرف سلسلہ کے انتظام کے ماتحت اور احمدی ملٹری افسروں کی حفاظت میں آئے ہوئے لڑکوں میں سوار ہونے سے احمدی خواتین اور احمدی بیچے رہ گئے بلکہ کئی ایک کو چوٹیں بھی آئیں اور تھوڑا بہت سامان جوان کے ساتھ تھا وہ برباد ہو گیا۔پھر حکومت کی طرف سے تو اس قسم کے اعلانات کئے جارہے تھے کہ پناہ گزینوں کی نہ تو تلاشی لی جاتی ہے سوائے اسلحہ کی تلاشی کے اور نہ ان سے کوئی اسباب چھینا جاتا ہے لیکن قادیان میں اس تشدد اور سختی