تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 81 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 81

تاریخ احمدیت بھارت 65 جلد اوّل قادیان کے اردگرد کے مسلمان دیہات میں۔۔۔۔مفسدہ پردازوں) کے مظالم جب روز بروز بڑھنے لگے۔لوٹ مار قتل و غارت اور آتش زنی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگا۔ملٹری اور پولیس لٹیروں اور غنڈوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنے اور مسلمانوں کی تباہی کو انتہا تک پہنچانے میں منہمک ہوگئی اور خطرات کا سیلاب زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ قادیان کے قریب سے قریب تر پہنچنے لگا تو حفاظتی اور دفاعی انتظامات کے سلسلہ میں خواتین اور بچوں کی حفاظت کی طرف حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاص توجہ مبذول فرمائی۔اور حضور کے ارشاد کے ماتحت لجنہ اماءاللہ کی کارکن خواتین نے ایسی مستورات کی فہرست تیار کی جنہیں ضعف قلب کی تکلیف یا کوئی اور عارضہ لاحق تھا تا کہ سب سے پہلے ان کو قادیان سے باہر محفوظ مقام پر پہنچانے کی کوشش کی جائے۔مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ پہلے پہل اس قسم کی فہرست میں نام درج کرانے سے بہت سی ایسی خواتین نے انکار کر دیا جنہیں کوئی نہ کوئی عارضہ لاحق تھا لیکن دل مضبوط تھے۔ان کی خواہش تھی جس کا انہوں نے باصرار اظہار بھی کیا کہ موت کے خطرہ سے انہیں قادیان سے باہر نہ بھیجا جائے۔اگر اب موت ہی مقدر ہے، تو قادیان سے بہتر جگہ اور کونسی ہو سکتی ہے؟ پھر ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ خطرہ کے وقت ممکن خدمات سرانجام دینے کے موقع سے انہیں کیوں محروم کیا جاتا ہے۔لیکن جب بتایا گیا کہ ان کی موجودگی مردوں کی سرگرمیوں میں مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب ہوگی اور دشمن کا مقابلہ اس اطمینان اور انہماک سے نہ ہو سکے گا جو ان کے چلے جانے کے بعد کیا جاسکتا ہے تو وہ بادل ناخواستہ قادیان سے باہر جانے پر آمادہ ہو سکیں۔چونکہ خواتین اور بچوں کو محفوظ طریق سے باہر بھیجنے میں سخت مشکلات در پیش تھیں۔ذرائع آمد و رفت بالکل مفقود تھے۔اور راستہ کے خطرات بے شمار سر کاری حفاظت میں لاریوں اور ٹرکوں کا ملنا نہایت دشوار ( تھا)۔ان حالات میں تجویز یہ کی گئی کہ جوں جوں ٹرک میسر آتے جائیں پہلے بیمار، کمزور اور گود میں بچہ رکھنے والی عورتوں کو لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کو بھیجا جائے۔اس کے لئے محلوں کے پریذیڈنٹوں سے فہرستیں طلب کی جائیں۔اور آمدہ ٹرکوں میں گنجائش کے مطابق نہایت چھان بین اور غور و خوض کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنے دستخطوں سے ٹکٹ جاری فرماتے۔اور ساری ساری رات اپنے عملہ سمیت اس کام میں مصروف رہتے۔اس کا اندازہ مجھے اس سے ہوا کہ پہلی دفعہ میرے گھر کی مستورات کا ٹکٹ رات کے قریب دو بجے پہنچا مگر