تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 97
96 کے سر میں بڑا جو ہوا باہر کی دیوار یا دروازہ توڑ کے مخالف سمن میں گھس آئے اور اندر کے دروازے کو توڑ رہے تھے کہ پتہ نہیں کیوں ؟ وہ وہاں سے بھاگ اٹھے اور واپس چلے گئے۔وہ کیوں بھا گئے ؟ اس سوال کا جواب اس آیت میں ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہو یا جو قوم خدا تعالی کی حفاظ میں ہوا دنیا کا کوئی کر دنیا کا منصوبہ اور دنیا کی پول طاقت سے یا انھیں شا نہیں سکتی اور یہ وعدہ جو ہے یہ دلوں کومضبوط کرنے والا اور قربانیوں پر نکھارنے والی ہے۔دوسرے اس میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ جو شریعت اس نبی کو دی جائے گی وہ بھی محفوظ ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے إنا نحن نزلنا الذكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَفِظُونَ ، رسورة الحجر، آیت (۱) کہ اس ذکر اور اس قرآن کریم کو ہم نے اتارا ہے او اس کی حفاظت کے سامان مہیا کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے جیس طرح چاہا اس نے حفاظت کی اور کرتا چلا آرہا ہے۔جب کثرت کے ساتھ کا غذ پر قرآن کریم لکھا جاگر اس کی اشاعت کے ذریعہ اس کی حفاظت نہیں ہو سکتی تھی تواللہ تعالے نے لاکھوں ذہنوں کو اس بات کے لیے تیار بھی کیا۔اور اس کی طاقت بھی دی کہ وہ قرآن کریم کو حفظ کر لیں اور ان میں سے ہزاروں ایسے بھی پیدا ہوئے جن کا حافظہ اتنا اچھا تھا کہ وہ زیر وزیر کی غلطی بھی کبھی نہیں کرتے تھے لیکن سارے مل کے تو وہ ایسا حافظہ رکھنے والے تھے کہ گر کو ئی غلطی کر جاتا تھا تو دوسرا فوراً اس کی تصحیح کرنے والا بھی موجود ہوا تھا بینی بحیثیت مجموعی حافظ قرآن غلطی نہیں کر سکتے تھے۔پھر یہ بنانے کے لیے کہ حفاظ کی یہ کثرت اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کے ماتحت پیدا ہوئی تھی جب قرآن کریم کاغذ کے اوپر شائع ہونا شروع ہوگیا تو حفاظ کی تعداد کم ہونی شروع ہوگئی اور اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلاکہ وہ زردی بھی اللہ کا ہی پیدا کردہ تھا۔انسانی تدبیر کا اس میں دخل نہ تھا۔معافی کے لحاظ سے ہر صدی میں اللہ تعالیٰ نے ایسے بزرگ اولیاء پیدا کیے صدی کے شروع میں بھی صدی کے وسط میں بھی ، اور صدی کے آخر میں بھی۔کہ جوخدا تعالیٰ کی توفیق سے خدا تعالیٰ کا اس قدر قرب حاصل کرنے والے تھے کہ للہ تعالی خودان کو علم قرآن سکھاتا تھا۔خود ان کا معلم تھا اور اپنے وقت کی ضرورتوں کو وہ پورا کرنے والے اور اپنے وقت کے مسائل کو وہ حل کرنے والے اور اپنے وقت کی اُلجھنوں کو وہ سلجھانے والے تھے۔