تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 96 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 96

آدمی مرنے کے لیے تیار ہو جاتے تو بظاہر اسلام کومٹا دیتے، لیکن خدا نے کہا کہ میں اتنے آدمی اور اتنی طاقت اسلام کے مخالف کو نہیں دوں گا کہ وہ اسلام پر کاری ضرب لگا سکے۔چنانچہ بدر کے میدان میں قریباً تین گنا طاقت کے ساتھ آئے تھے بعض میں شہید بھی ہوئے، لیکن نہیں مٹنے نہیں دیا گیا۔پھر جب تک نگر میں اور عرب میں اسلام مضبوط نہیں ہوگیا ، قیصر اور کسری کو خدا نے اجازت نہیں دی کہ وہ اسلام کومٹانے کی کوشش کر دیکھیں۔لیکن جب اسلام ملک عرب میں مضبوط ہوگیا توقیصر وکسر ٹی کو بھی اجازت دی گئی کہ وہ اسلام کے خلاف میں قدر جاہیں زور لگائیں اور جو کھید اُن سے بن آیا اسلام کی مخالفت میں انہوں نے کیا کر ہمیشہ ناکامی کامنہ دیکھا اور سب سے بڑا معجزہ جو میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی وقت بھی مخالفین کو اتنی طاقت نہیں دی گئی کہ وہ امت مسلی گلی مٹا دیں۔ایک حقہ نے قربانی دی ایک حصہ سے اللہ تعالیٰ نے قربانی لینی چاہی اور بشاشت سے اس کی راہ میں اُنہوں نے مصائب کے پہاڑ جھیلے ، لیکن امت مسلہ بحیثیت ایک اقت کے ہمیشہ خدا کی پناہ میں رہی۔اب مثلاً ہمارے زمانہ میں درقالی طاقتوں نے اس قدر قوت حاصل کرلی ہے کہ اگر وہ چاہتے یا اگروہ چاہیں تو دنیا کے سارے مسلمانوں کو قتل کر سکتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے جہاں پہلے دوسری قسم کے معجزے دکھائے اب یہ معجزہ دکھایا کہ انسان کی عقل پر فرشتوں کا پر اٹھا دیا اور اُنکو کہا کہ یہ مانا کور کے ساتھ مذہب کو مٹا نے نہیں دلائل سے مقابلہ ہونا چاہئیے۔ان کے پاس طاقت تو ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی توجہ کو اس طرف سے ہٹا دیا کہ و طاقت کے ذریعہ مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کریں میں آج اگر قبال مادی طاقت کو استعمال کر کے ہر مسلما کو قتل کرنا چاہے تو اس کے اندر یہ طاقت تو ہے لیکن خدا نے کہا کہ طاقت تو دیدی ہے لیکن اس کے استعمال کی اجازت نہیں دوں گا ، اسلام کے خلاف اور سلمانوں کے خلاف۔میں ال نبی اکرم صلی الہ علیہ وسلم کو وعدہ دیا گیا خصوصی حفاظت کا اسی وجہ سے اور اسی مرض کے پیش نظرامت مسلمہ کو بھی خصوصی حفاظت کا وعدہ دیا گیا ہے اور عملاً دنیا میں کبھی بھی خدا تعالیٰ نے مخالفین کو یہ اجازت نہیں دی کہ دہ امت مسلہ کو کلیتہ دنیا سے شادیں، اپنے ہیں حالات دیکھ لو ایک وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قتل کرنے کے لیے ایک آدمی کافی تھا۔کوئی جماعت آپ کے ارد گرد نہیں تھی۔ایک بار صرف بارہ آدمی آپ کے ساتھ تھے۔دہلی